انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 448

انجام آتھم — Page 8

روحانی خزائن جلداا Λ انجام آنقم کے تمثلات اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار آئے جو قانون فطرت کی رو سے ان لوگوں کو دکھائی دیا۔ کرتے ہیں جو حد سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ مثلاً امرتسر کے مقام میں اس نے سانپ دیکھا کہ گویا وہ ہمارے اشارہ سے اس پر حملہ کرتا ہے اور لدھیانہ کے مقام میں نیزوں والے دیکھے جو اس کو مارنا چاہتے ہیں۔ اور فیروز پور کے مقام میں بندوقوں والوں کو دیکھا کہ گویا اس کا کام تمام کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ حملے کسی انسان کی طرف سے ہوتے تو ضرور آتھم صاحب اس سانپ کو مار سکتے اور اگر سانپ ہاتھ سے نکل گیا تھا تو ان لوگوں میں سے کسی کو پکڑ سکتے جنہوں نے لود یا نہ میں ان پر حملہ کیا تھا۔ اور اگر ان کو نہ پکڑ سکتے تو ان لوگوں میں سے تو ضرور کسی کو پکڑتے جنہوں نے مقام فیروز پور میں ان کے داماد کی کوٹھی پر پہرہ والوں کے ہوتے ہوئے ان پر حملہ کیا تھا۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ آتھم جیسے پیر جہاں دیدہ پر اس درجہ کی مذہبی دشمنی کی وجہ سے تین حملے ہوں تو وہ نہ کسی اقدام قتل کرنے والے کو پکڑ سکے اور نہ اس مدت میں کسی عیسائی کو اس واقعہ کی خبر دے سکے اور نہ تھانہ میں رپورٹ لکھوا سکے اور نہ عدالت میں نالش کر سکے اور رکھا گیا اور قرآن شریف اور توریت کے اتفاق سے یہ بھی ثابت ہے کہ فرعون کے ایمان کے وعدہ پر خدا تعالیٰ بار بار عذاب کو اس سے ٹالستار ہا حالانکہ جانتا تھا کہ فرعون کا خاتمہ کفر پر ہے مگر اس بات کا سر کہ وعید میں تخلف ارادہ عذاب کا کیوں اور کس وجہ سے بعض اوقات میں ہو جاتا ہے حالانکہ بظاہر تخلف وعید میں بھی رائحہ کذب ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی کو سزا دینا در اصل خدا تعالیٰ کے ذاتی ارادہ میں داخل نہیں ہے اس کے صفاتی نام جو اصل الاصول تمام صفاتی ناموں کے ہیں چار ہیں اور چاروں جو د اور کرم پر مشتمل ہیں یعنی وہی نام جو سورہ فاتحہ کی پہلی تین آیتوں میں مذکور ہیں یعنی رب العالمین اور رحمان اور رحیم اور ملک یوم الدین یعنی مالک یوم جزا۔ ان ہر چہار صفات میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لئے سراسر نیکی کا ارادہ کیا گیا ہے یعنی پیدا کرنا پرورش کرنا جس کا نام ربوبیت ہے اور بے استحقاق آرام کے اسباب مہیا کرنا جس کا نام رحمانیت ہے اور تقویٰ اور خدا ترسی اور ایمان پر انسان کے لئے وہ اسباب مہیا کرنا جو