انجام آتھم — Page 7
روحانی خزائن جلداا ۷ کی پیشگوئی کی۔ مگر وہ بھی وقت متعینہ پر پوری نہ ہوئی۔“ انجام آتھم اقول - مباحثہ کا نمونہ تو میں نے کسی قدرا بھی بتلا دیا۔ اور پھر بھی انکار کرتے رہنا ان لوگوں کا کام ہے جو جھوٹ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور رہا یہ کہ آتھم تاریخ مقررہ پر نہیں مرا بلکہ اس کے بعد مرا یہ عیسائیوں کی حماقت ہے جو ایسا سمجھتے ہیں۔ کیا پیشگوئی میں یہ شرط نہ تھی کہ آتھم اس حالت میں ہاویہ میں گرے گا کہ جب رجوع الی الحق نہ کرتے۔ اب ذرہ دل کو ٹھہرا کر اور آنکھوں کو کھول کر سوچو اور فکر کرو کہ کیونکر آتھم نے اپنے اقوال سے اپنے افعال سے اپنی مضطر بانہ حرکات سے اپنے مفتر یا نہ دعاوی سے اس بات کو ثابت کر دیا کہ در حقیقت پیشگوئی کی عظمت نے اس کے دل پر اثر کیا اور درحقیقت وہ پیشگوئی کے زمانہ میں نہ معمولی طور پر بلکہ بہت ہی ڈرا اور وہ خوف حاشیہ ۔ اس بات کے لئے بڑے زبر دست دلائل ہمارے ہاتھ میں ہیں کہ آنھم کی یہ موت کوئی معمولی موت نہیں۔ آنقم کی عمر قریباً میرے برابر تھی۔ اور میں تو اکثر عوارض لاحقہ سے بیمار رہتا ہوں اور دردسر کی بیماری مجھے مدت تمہیں سال سے ہے۔ مگر آتھم ایک پرورش یافتہ بیل کی طرح موٹا تھا اور دن رات شراب پینے اور عمدہ غذا ئیں کھانے کے سوا اور کوئی کام نہیں تھا۔ سو اس کی موت در حقیقت انہیں پیشگوئیوں کا ظہور ہے کہ جو قطعی طور پر اس کے لئے کی گئی تھیں۔ الدخان : ۱۶ اور علاوہ پیشگوئیوں کے جن کا اپنے وقت پر پورا ہونا ضروری تھا۔ یہ بھی انوار الاسلام اور دیگر اشتہارات میں بار بار لکھ چکے ہیں کہ یہ قدیم سے سنت اللہ ہے کہ جو شخص خوف کی حالت میں رجوع کر کے اور پھر امن پا کر برگشتہ ہو جائے خدا اس کو تھوڑی مہلت دیکر پھر پکڑ لیتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيْلًا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ یعنی ہم رجوع کے بعد کچھ تھوڑی مدت عذاب کو موقوف رکھیں گے اور پھر پکڑ لیں گے اور تھوڑی مدت اس لئے کہ پھر تم انکار کی طرف رجوع کرو گے۔ سوایسا ہی ہوا ۔ یہ بات مسلمانوں کو بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ گو ایک شخص کا انجام خدائے تعالیٰ کے علم میں کفر ہونگر عادت اللہ قدیم سے یہی ہے کہ اس کی تضرع اور خوف کے وقت عذاب کو دوسرے وقت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ وعید میں خدا کے ارادہ عذاب کا تخلف جائز ہے مگر بشارت میں جائز نہیں جیسا کہ قوم یونس کی وعید میں نزول عذاب کی قطعی تاریخ بغیر کسی شرط کے بتلا کر پھر اس قوم کی تضرع پر وہ عذاب موقوف