انجام آتھم — Page 9
روحانی خزائن جلداا ۹ انجام آتھم ہمارا مچلکہ بذریعہ عدالت لے سکے اور منہ پر مہر لگ جائے ۔ کیا تم انسان ہو یا حیوان ہو کہ اتنی موٹی 9 بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس آتھم پر جوا کسٹرا اسٹنٹ بھی رہ چکا تھا ایسے ایسے سخت حملے ہوئے اور نہ صرف اسی قدر بلکه بقول تمہارے اس کو زہر دینے کا بھی ارادہ کیا گیا مگر اس نے عدالت کے ذریعہ سے خونخوار حریف کا کچھ بھی تدارک نہ کرایا۔ ایسے بدذات اور پلید طبع جنہوں نے زہر دینے کی تجویز کی اور ڈاکوؤں کی طرح تین مرتبہ اس پر سخت حملے کئے کیا ایسے خبیثوں کو چھوڑ نا روا تھا۔ خدا کی لعنت اس شخص پر جس نے سانپ چھوڑا اور زہر دینے کی تجویز کی اور سوار اور پیادے بندوقوں اور تلواروں اور نیزوں کے ساتھ بمقام لودیانہ اور فیروز پور آتھم کی کوٹھی پر بھیجے تا اس کو قتل کریں اور اگر یہ بات صحیح نہیں تو پھر اس شخص پر ہزار لعنت جس نے ایسا بے بنیاد افترا کیا اور حق کو خفی رکھنے کے لئے اور اپنے خوف کو چھپانے کے لئے یہ منصو بہ گھڑا۔ اسی قسم کے افتراؤں سے جن کو ہم نے بچشم خود دیکھ لیا ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس عیسائی قوم میں سخت بدذات اور شریر پیدا ہوتے ہیں اور بھیڑوں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں شریر بھیڑئیے ہوتے ہیں۔ اور ایسی بدذاتی سے بھرے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں اور افترا کرتے آئند و دکھ اور مصیبت سے محفوظ رکھیں۔ جس کا نام رحیمیت ہے۔ اور اعمال صالحہ کے بجالانے پر جو عبادت اور صوم اور صلوۃ اور بنی نوع کی ہمدردی اور صدقہ اور ایثار وغیرہ ہے وہ مقام صالح عطا کرنا جو دائمی سرور اور راحت اور خوشحالی کا مقام ہے جس کا نام جزاء خیر از طرف مالک یوم الجزا ہے۔ سوخدا نے ان ہر چہار صفات میں سے کسی صفت میں بھی انسان کے لئے بدی کا ارادہ نہیں کیا سراسر خیر اور بھلائی کا ارادہ کیا ہے لیکن جو شخص اپنی بدکاریوں اور بے اعتدالیوں سے ان صفات کے پر توہ کے نیچے سے اپنے تیں باہر کرے اور فطرت کو بدل ڈالے اس کے حق میں اسی کی شامت اعمال کی وجہ سے وہ صفات بجائے خیر کے شر کا حکم پیدا کر لیتے ہیں چنانچہ ربوبیت کا ارادہ فنا اور اعدام کے ارادہ کے ساتھ مبدل ہو جاتا ہے اور رحمانیت کا ارادہ غضب اور شخط کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے اور رحیمیت کا ارادہ انتظام اور سخت گیری کے رنگ میں جوش مارتا ہے اور جزاء خیر کا ارادہ سزا اور تعذیب کی صورت میں اپنا ہولناک چہرہ دکھاتا ہے۔ سو یہ تبدیلی خدا کی صفات میں انسان کی اپنی حالت کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔