انجام آتھم — Page 341
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۳۴۱ ضمیمه رساله انجام آتھم یعنی اس پر فقر فاقہ کی مصیبت نازل ہوگی۔ اور اپنے مقاصد میں ناکام رہے گا اور رسوا ہو جائے گا۔ اور پھر فرمایا (۵۷) کہ اس شخص کے دعوئی اسلام اور مولویت کے لائق نہیں تھا کہ تکفیر اور تکذیب پر جرات کرتا اور اس نازک مقدمہ میں چالاکی کے ساتھ دخل دیتا۔ ہاں یہ چاہیئے تھا کہ صحت نیت اور خوف دل کے ساتھ اپنے شکوک رفع کراتا۔ اور پھر فرمایا کہ اس شخص کے منصوبوں سے جو کچھ تجھے ضرر پہنچے گا وہ خدا تعالی کی طرف سے ہے اور جب یہ تکفیر اور تکذیب کرے گا تو اس وقت ملک میں ایک بڑا فتنہ بر پا ہوگا۔ وہ فتنہ انسان کی طرف سے نہیں بلکہ تیرے خدا نے یہی چاہا تا وہ تجھ سے نہایت درجہ کی محبت کرے کیونکہ ہر یک اصطفاء ابتلا کے بعد ہوتا ہے۔ خدا کی محبت بڑے قدر کے لائق ہے کیونکہ وہ سب پر غالب اور سب سے زیادہ کریم ہے۔ پس جس سے وہ محبت کرے گا اس کی تمام امیدیں کامیابی کا انجام رکھتی ہیں اور اس کی یہ عطا غیر منقطع ہے۔ اس کے بعد یوں ہوگا کہ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی پہلی بکری سے مراد میرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے اور پھر فرمایا کہ تم مست مست ہو اور غم مت کرو کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر یک چیز پر قادر ہے اور پھر فرمایا کہ ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے یعنی کھلی کھلی فتح دیں گے تا کہ تیرا خدا تیرے اگلے پچھلے گناہ بخش دے یعنی کامل عزت اور قبولیت عطا کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کا تمام گناہ بخش دینا اس محاورہ پر استعمال پاتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ پر راضی ہو جائے اور پھر فرمایا کہ خدا اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔ وہ اس کو ان تمام الزاموں سے بری کرے گا جو اس پر لگائے جاتے ہیں۔ اور وہ بندہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے۔ ان پیشگوئیوں میں علاوہ اور پیشگوئیوں کے جو ان کے ضمن میں بیان کی گئیں دو بکریوں کے ذبح ہونے کی پیشگوئی احمد بیگ اور اس کے داماد کی طرف اشارہ ہے جو آج سے ستر برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہے ایسا ہی محمد حسین کی تکفیر کا فتنہ جو صرف پانچ چار سال سے شائع ہوا ہے آج سے ستر البرس پہلے اس فتنہ کی براہین میں خبر دی گئی ہے چنانچہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ اب سوچنا چاہیئے کہ کیا یہ انسان کا کام ہے۔ کیا انسان کو یہ قدرت حاصل ہے کہ آئندہ واقعات کی خبر سالہا سال پہلے ایسی صفائی سے بیان کر سکے۔ بڑے عظیم الشان فتنے میری نسبت دو وقوع میں آئے ہیں۔ ایک پادریوں کا۔ ایک محمد حسین وغیرہ کی تکفیر کا۔ سوان دونوں فتنوں کی تصریح کے ساتھ براہین احمدیہ میں سترہ برس پہلے آج کے دن سے خبریں موجود ہیں کیا دنیا میں کوئی اور شخص موجود ہے جس کی تحریروں میں یہ عظیم الشان سلسلہ پیشگوئیوں کا پایا جائے یقینا کوئی سخت بے حیا ہو گا جو اس فوق العادت سلسلہ سے انکار کرے۔ اس جگہ الہام الہی بارش کی طرح برس رہا ہے آسمانوں کے دروازے کھلے ہیں۔ اب دیکھو کہ یہ شریر مولوی کب تک اور کہاں تک انکار کریں گے۔ میں خدا سے یقینی علم پا کر کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مولوی اور اُن کے سجادہ نشین اور ان کے مہم