انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 448

انجام آتھم — Page 342

۳۴۲ روحانی خزائن جلد ۱۱ ضمیمه رساله انجام آتھم ۵۸ اکٹھے ہو کر الہامی امور میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تو خدا ان سب کے مقابل پر میری فتح کرے گا کیونکہ میں خدا کی طرف سے ہوں پس ضرور ہے کہ بموجب آیہ کریمہ كَتَبَ اللهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی میری فتح ۔ فَمُت ياعبد الشيطان الموسوم بعبد الحق۔ فان الله معزنی و مذلک و مکرمنی و مهینک وان الله لا يحبّ الظالمين ہو۔ کمال افسوس ہے جو میں نے سنا ہے کہ اسلام کے بدنام کرنے والے غزنوی گروہ جو امرتسر میں رہتے ہیں۔ لوگوں کو کہتے ہیں کہ ایک بد بخت محد سعید دہلوی جو مرتد ہو گیا ہے اور اسکا بھائی کبیر جواب دسمبر ۱۸۹۶ء میں بمقام کوٹلہ مالیر فوت ہو گیا ہے یہ دونوں واقعہ عبدالحق کے مباہلہ کا اثر ہیں۔ اب مسلمانو! سوچو کہ یہ سیاہ دل فرقہ غزنویوں کا کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے۔ اے بد بخت مختر یوا خبیث محمد سعید یا اسکے بھائی سے میری کوئی قرابت نہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ نہ ہمارا کوئی رشتہ ہے نہ ان سے کچھ غرض تعلق ہے کیا عبد الحق کے مباہلہ کا اثر ایک تیسرے گھر پر گرا جس کا ہم سے کچھ بھی تعلق نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ عبد الحق کے مباہلہ کے بعد بہت ذلیل ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کو ایسے ایسے جھوٹے منصوبے تراشنے پڑے اگر عبدالحق کی روسیاہی کے دھونے کیلئے ایسے ہی جھوٹے منصوبے بنانے تھے تو دہلی کے غیر معروف دولونڈوں کا ذکر بے فائدہ تھا۔ ہماری دانست میں بہتر یہ تھا کہ آج کل جو بمبئی میں ہزار ہا لوگ طاعون سے مررہے ہیں اُس کو عبد الحق کے مباہلہ کا اثر شہرا کر اس مضمون کا اشتہار شائع کر دیتے کہ چونکہ منشی زین الدین محمد ابراہیم ( جو نہایت درجه مخلص ایں جانب اور سلسلہ بیعت میں داخل ہیں) بمبئی میں رہتے ہیں لہذا مناسب تھا کہ مباہلہ کا اثر اسی شہر پر نہ کسی اور جگہ پڑتا ۔ نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم اور حیا سے کام نہیں لیتا۔ عبدالحق کے مباہلہ کے بعد جس قدر خدا تعالیٰ نے ہمیں ترقی دی۔ ہماری قبولیت زمین پر پھیلادی۔ ہماری جماعت کو ہزار ہا تک پہنچایا۔ ہماری علمیت کا لاکھوں کو قائل کر دیا۔ الہام کے موافق مباہلہ کے بعد ہمیں ایک لڑکا عطا کیا جس کے پیدا ہونے سے تین لڑکے ہمارے ہو گئے یعنی دوسری بیوی ہے۔ اور نہ صرف یہی بلکہ ایک چوتھے لڑکے کیلئے متواتر الہام کیا اور ہم عبد الحق کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ نہیں مرے گا جب تک اس الہام کا پورا ہونا بھی نہ سن لے۔ اب اس کو چاہیئے کہ اگر وہ کچھ چیز ہے تو دعا سے اس پیشگوئی کو ٹال دے۔ اور پھر خدا نے پیشگوئی کے موافق آعظم کو فی النار کر کے پادریوں اور مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا۔ ہزار ہا روپیہ ستک مالی فتوحات مجھ پر کیں۔ اور جلسہ مذاہب میں جو ۲۷ دسمبر ۱۸۹۶ء کو ہوا تھا ہماری تقریر کی وہ قبولیت ظاہر کی کہ انگریزی اخبار بول اٹھے کہ ہاں یہی تقریر غالب رہی اس کو معجزہ سمجھ کر بعض جوانمرد مسلمانوں نے روپیہ بھیجا جیسا کہ میاں اللہ دتا صاحب سیالکوٹی نے کل ۱۵ جنوری ۱۸۹۷ء کو اسی خوشی سے مورو پی بھیج دیا۔ اور اس روز ہماری وہ الہامی پیشگوئی بھی پوری ہوئی جو اس مضمون کی نسبت بذریعہ اشتہار شائع کی گئی تھی کہ یہ مضمون سب پر غالب آئے گا۔ کیا اس عزت اور ان تمام الہاموں کے پورا ہونے سے اب تک عبد الحق کا منہ کالا نہیں ہوا۔ کیا اب تک غزنویوں کی المجادلة: ۲۲