انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxviii of 448

انجام آتھم — Page xxxviii

لکھتے ہیں۔’’خداوند تعالیٰ مجھے انبیاء کی توہین اور تکذیب سے محفوظ رکھے۔مگر صرف پادری صاحبوں کے الزام کے لئے نقل کرتاہوں۔‘‘ (استفسار صفحہ ۴۱۹،۴۲۰) اب چند حوالے مولوی رحمت اﷲ صاحب مرحوم مہاجر مکّی کی کتاب ’’ازالۃ الاوہام‘‘ سے پیش کئے جاتے ہیں۔فرماتے ہیں۔۱۔’’معجزات موسویہ مثل عصا وغیرہ۔۔۔۔۔۔معجزہ ندانند زیرا کہ مثل آنہا ساحراں ہم کردہ بودند۔اکثر معجزات عیسویہ را معجزات ندا نند زیرا کہ مثل آنہا ساحراں ہم میسازند۔ویہود آنجناب را چون نبی نمے دا نند و ہمچو معجزات ساحر میگویید۔‘‘ (صفحہ ۱۲۹) ۲۔’’جناب مسیح اقرار میفرمایند کہ یحییٰ نہ نان میخورانیدند نہ شراب می آشامیدند وآنجناب شراب ہم مے نوشیدند و یحییٰ در بیابان مے ماندند و ہمراہ جناب مسیح بسیار زنان ہمراہ مے گشتند و مال خود را مے خورا نیدند۔و زنانِ فاحشہ پاۂا آنجناب را بوسیدند و آنجناب مرتا مریم را دوست میداشتند و خود شراب برائے نوشیدند و دیگر کساں عطا مے فرمودند‘‘ (صفحہ ۳۷۰) ۳۔’’و نیز وقتیکہ یہودا فرزند سعادتمند شاں از زوجۂ پسر خود زنا کرد و حاملہ گشت وفارص را کہ از آباء و اجداد و سلیمان و عیسیٰ علیھما السلام بود زائید ہیچ کس را از ینہا سزائے ندادند‘‘ (یعنی یعقوب) (صفحہ ۴۰۵) اس کتاب میں ایسی باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔اور انہوں نے الزامی جواب دینے کی غرض یہ لکھی ہے:۔’’و ادب تقاضا نمیکرد کہ بر پیشینگوئی جناب مسیح حرفے بر زبان قلم آید مگر چونکہ علمائے مسیحیہ پیشینگوئیہا جناب سید الانس و الجانّ چشم انصاف بستہ باعتراض پیش مے آئند ازیں جہت بطور الزامے و محض برائے آگاہی ایں فرقہ بر پیشینگوئیہا مندرجہ عہد جدید چیزے آشنائے زبان قلم مے گردد تا ایں فرقہ را اطلاع شود کہ مخالف را بحسب رائے خود اگر از انصاف چشم بندد راہیست وسیع۔‘‘ (صفحہ ۳۴۸)