انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxix of 448

انجام آتھم — Page xxxix

۔اب انصاف کرنا چاہئے کہ اگر مذکورہ بالا مقتدر علماء پر باوجود اِن اقوال کے جو انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت لکھے ہیں توہینِ مسیح علیہ السلام کا اعتراض نہیں کیا جاتا اور اُن کا عذر کہ یہ جوابات الزامی طور پر دیئے گئے ہیں قابلِ قبول ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے یہی اقوال موجب توہینِ مسیحؑ کیوں قرار دیئے جاتے ہیں؟ حالانکہ آپؑ نے تو اتنی احتیاط فرمائی ہے کہ جس کے بعد کوئی عقلمند شخص جو تعصّب سے خالی ہو وہم بھی نہیں کر سکتا کہ آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔آپؑ نے اپنی متعدد کُتب میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ آپؑ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مثیل ہیں اور ایک دوسرے سے ایسے مشابہ اور مماثل ہیں گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں تو پھر آپؑ اپنے مثیل اور ہمنام کی کیونکر توہین کر سکتے تھے۔چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:۔’’موسیٰ کے سِلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سِلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں سو میں اُس کی عزّت کرتا ہوں جس کا ہمنام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ مَیں مسیح ابن مریم کی عزّت نہیں کرتا۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱۷،۱۸) اور فرماتے ہیں:۔’’اور یاد رہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزّت کرتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ کا نبی سمجھتے ہیں اور ہم اُن یہودیوں کے اُن اعتراضات کے مخالف ہیں جو آج کل شائع ہوئے ہیں مگر ہمیں یہ دکھلانا منظور ہے کہ جس طرح یہود محض تعصّب سے حضرت عیسیٰ ؑ اور اُن کی انجیل پر حملے کرتے ہیں اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اِس بد طریق میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔‘‘(چشمۂ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۳۳۶،۳۳۷) پھر آپؑ نے دو مسیحوں کا ذکر بار بار کیا ہے۔ایک کے لئے ’’حضرت مسیح علیہ السلام‘‘ ’’سچا مسیح‘‘ اور ’’عیسیٰ علیہ السلام‘‘ اور ’’عیسیٰ ابن مریم‘‘ جن کا ذکر قرآن میں ہے کے الفاظ لکھے ہیں اور دوسرے مسیح کے لئے ’’فرضی مسیح‘‘ ’’تمہارے فرضی مسیح‘‘ ’’فرضی خدا‘‘ ’’اور ایک شخص یسوع نام‘‘۔’’وہ یسوع جس کا ذکر قرآن