انجام آتھم — Page 296
۲۹۶ روحانی خزائن جلد ا ضمیمه رساله انجام آتھم (۱۲) اشارہ تھا کہ رمضان نزول قرآن اور برکات کا مہینہ ہے اور مہدی موعود بھی رمضان کے حکم میں ہے کیونکہ اس کا زمانہ بھی رمضان کی طرح نزول معارف قرآن اور ظہور برکات کا زمانہ ہے سو اس کے زمانہ میں علماء کا اس سے منہ پھیرنا اس کو کافر قرار دینا گویا رمضان میں خسوف کسوف ہونا ہے اگر کسی کو ایسی خواب آوے کہ رمضان میں خسوف کسوف ہوا تو اُس کی یہی تعبیر ہے کہ کسی با برکت انسان کے زمانہ میں علماء وقت اس کی مخالفت کریں گے اور سب اور توہین اور تکفیر سے پیش آدیں گے۔ اور وہ شخص موعود مہدی کے نام سے بھی اس لئے نامزد کیا گیا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ لوگ اس کو مہدی یعنی ہدایت یافتہ نہیں سمجھیں گے بلکہ کافر اور بے دین کہیں گے۔ سو یہ نام پہلے سے بطور ذب اور دفع کے مقرر کیا گیا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مذمت کرنے والوں کے رد کے لئے محمد رکھا گیا۔ تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس قابل تعریف نبی کی شریر اور خبیث لوگ مذمت کریں گے مگر وہ محمد ہے یعنی نہایت تعریف کیا گیا نہ کہ منقم ۔ اب یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ حدیث میں دو خسوف کسوف کا وعدہ تھا۔ ایک علماء اور فقراء کے دلوں کا خسوف کسوف اور دوسرے چاند اور سورج کا کسوف خسوف ۔ سوز مین کا خسوف کسوف تو علماء اور فقراء نے اپنے ہاتھ سے پورا کیا۔ کیونکہ انہوں نے علم اور معرفت کی روشنی پا کر پھر اس شخص سے عمداً منہ پھیرا جس کو قبول کرنا چاہئے تھا اور ضرور تھا کہ ایسا کرتے کیونکہ لکھا گیا تھا کہ ابتدا میں مہدی موعود کو کا فرقرار دیا جائے گا۔ سوانہوں نے مجھے کا فرقرار دے کر اس نوشتہ کو پورا کر دیا۔ اور دوسرا حصہ آسمان میں پورا ہوا۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ مہدی کو اسی طرح حدیث میں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرایا گیا جس طرح حدیث میں عیسائیوں کو آل عیسی ٹھہرایا گیا۔ اب نشان مانگنے والے سوچیں کہ کیا یہ خسوف کسوف نشان نہیں ہے۔ کیا خسوف و کسوف ظاہر نہیں کرتا کہ مہدی موعود پیدا ہو گیا۔ اور وہ وہی ہے جس کی تکذیب کی گئی جس کو کافر ٹھہرایا گیا۔ کیونکہ نشان اسی کی تصدیق کے لئے ہوتا ہے جس کو قبول نہ کیا جائے۔ افسوس ہمارے نادان علماء اور مغرور فقراء نہیں سوچتے کہ آثار اور احادیث میں مہدی موعود کی یہی نشانی تھی کہ پہلے