انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 448

انجام آتھم — Page 297

۲۹۷ ضمیمه رساله انجام آتھم روحانی خزائن جلد 1 اس کو بڑے زور شور سے کا فر ٹھہرایا جائے گا۔ اور پھر اُس کی تصدیق کے لئے آسمان پر رمضان میں (۱۳) خسوف کسوف ہوگا۔ سو نہایت صفائی سے یہ نشانی پوری ہو گئی۔ کیا وہ لوگ اب تک متقی اور پر ہیز گار کہلاتے ہیں جو اس قدر کھلا کھلا نشان ظاہر ہونے پر بھی حق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ ان کے دلوں میں خدا تعالی کا خوف پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کیسے ان کے دلوں پر قتل ہیں جنہوں نے ایک ذرہ تصدیق سے کام نہ لیا۔ اور منجملہ آسمانی نشانوں کے ایک نشان میرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی موت ہے۔ آپ لوگ جانتے ہیں کہ پیشگوئی میں صاف لفظوں میں لکھا گیا تھا کہ وہ اپنی دختر کے روز نکاح سے تین برس تک فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ روز نکاح سے ابھی چھ مہینے نہیں گزرے تھے کہ وہ بمقام ہوشیار پور فوت ہو گیا۔ اب سوچو کیا یہ نشان نہیں ہے کیا یہ علم غیب بجز خدا کے اور کو بھی حاصل ہے مگر اس پیشگوئی کا دوسرا حصہ جو اس کے داماد کی موت ہے وہ الہامی شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا اور داماد اس کا الہامی شرط سے اسی طرح متمتع ہوا جیسا کہ آتھم ہوا۔ کیونکہ احمد بیگ کی موت کے بعد اس کے وارثوں میں سخت مصیبت برپا ہوئی۔ سوضرور تھا کہ وہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتے ۔ اور اگر کوئی بھی شرط نہ ہوتی تاہم وعید میں سنت اللہ یہی تھی جیسا کہ یونس کے دنوں میں ہوا۔ پس اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کے تو بہ اور رجوع کے باعث سے اس وقت فوت نہ ہوا۔ مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں مختلف نہیں اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں ۔ خدا کا وعدہ ہر گز نمل نہیں سکتا ۔ غرض احمد بیگ کی موت بھی خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ اسی طرح بہت امور غیبیہ ہیں جو ظہور میں آئے ۔ چنانچہ پنڈت دیا نند کی موت کی خبر قبل از وقت دینا ۔ دلیپ سنگھ کے اپنے ارادہ سیر ہندوستان میں ناکام رہنے کی خبر قبل از وقت دینا ۔ مہر علی ہوشیار پوری کی مصیبت کی خبر قبل از وقت دینا ۔ یہ ایسے امور ہیں جو صد ہا آدمی اس پر گواہ ہیں ۔ اور تین ہزار کے قریب وہ اخبار غیب ہیں جن پر وقتا فوقنا صحبت میں رہنے والے اطلاع پاتے گئے جن میں سے بہت اب تک موجود ہیں۔ اور میں بیچ بیچ کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو کسی مدت معقول تک میری صحبت میں رہا ہے ضرور اس نے کوئی نشان بھی دیکھا ہے ۔ ایسا کوئی نہیں