انجام آتھم — Page xxviii
پھر آپؑ نے آتھم کے خط مطبوعہ ’’نور افشاں‘‘ مؤرخہ ۲۱؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کے جواب میں جو خط لکھا اُس میں آپؑ نے تحریر فرمایا:۔’’مَیں نے خدا تعالیٰ سے سچّا اور پاک الہام پا کر یقینی اور قطعی طور پر جیسا کہ آفتاب نظر آجاتا ہے معلوم کر لیا ہے کہ آپ نے میعاد پیشگوئی کے اندر اسلامی عظمت اور صداقت کا سخت اثر اپنے دل پر ڈالا اور اِسی بنا پر پیشگوئی کے وقوع کا ہمّ و غم کمال درجہ پر آپ کے دل پر غالب ہوا۔میں اﷲ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بالکل صحیح ہے اور خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مجھ کو یہ اطلاع ملی ہے اور اُس پاک ذات نے مجھے یہ اطلاع دی ہے کہ جو انسان کے دل کے تصوّرات کو جانتا اور اُس کے پوشیدہ خیالات کو دیکھتا ہے اور اگر میں اس بیان میں حق پر نہیں تو خدا مجھ کو آپ سے پہلے موت دے۔پس اِسی وجہ سے میں نے چاہا کہ آپ مجلسِ عام میں قسم غلیظ مؤکد بعذاب موت کھاویں ایسے طریق سے جو مَیں بیان کر چکا ہوں۔تا میرا اور آپ کا فیصلہ ہو جائے اور دنیا تاریکی میں نہ رہے اور اگر آپ چاہیں گے تو میں بھی ایک برس یا دو برس یا تین برس کے لئے قسم کھا لوں گا۔کیونکہ مَیں جانتا ہوں سچا ہرگز برباد نہیں ہو سکتا بلکہ وہی ہلاک ہو گا جس کو جھوٹ نے پہلے سے ہلاک کر دیا ہے۔اگر صدقِ الہام اور صدقِ اسلام پر مجھے قسم دی جائے تو مَیں آپ سے ایک پیسہ نہیں لیتا۔لیکن آپ کی قسم کھانے کے وقت تین ہزار کے بدرے پہلے پیش کئے جائیں گے۔‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ۹۲، ۹۳) لیکن آتھم صاحب نہ قسم کھانے کے لئے تیار ہوئے اور نہ انہوں نے حق کو ظاہر کیا۔اِخفائے حق کی صورت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بار بار انہیں موت سے بھی ڈرایا تھا۔چنانچہ آپؑ نے ’’انوار الاسلام‘‘ میں تحریر فرمایا:۔