انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 448

انجام آتھم — Page xxvii

کھا سکتا گویا ان کا ایمان عدالت کے جبر پر موقوف ہے مگر جو سچائی کے اظہار کے لئے قسم نہیں کھاتے وہ نیست و نابود کئے جائیں گے۔(یرمیاہ باب ۱۲ آیت ۱۶) (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ ۹۹حاشیہ) نیز انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا ممنوع ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس کا مفصّل جواب دیا۔کہ حضرت عیسیٰ ؑ جانتے تھے کہ قسم کھانا شہادت کی رُوح ہے۔وہ اس کو حرام قرار نہیں دے سکتے تھے۔الٰہی قانون قدرت اور انسانی صحیفۂ فطرت اور انسانی کانشنس گواہ ہے کہ قطع خصومات کے لئے انتہائی حد قسم ہے۔گورنمنٹ کے تمام عہدیدار قسم اٹھاتے ہیں پطرس، پولوس اور خود مسیح نے قسم کھائی۔فرشتے بھی قسم کھاتے ہیں۔خدا بھی قسم کھاتا ہے۔نبیوں نے بھی قسمیں کھائیں۔آپؑ نے یہ تمام امور مع حوالہ جات بائیبل لکھے۔بعض معترضین نے کہا۔ہوسکتا ہے کہ ایک برس میں انہوں نے مر ہی جانا ہو۔آپؑ نے اِس کے جواب میں فرمایا:۔’’جبکہ یہ دو خداؤں کی لڑائی ہے۔ایک سچا خدا جو ہمارا خدا ہے اور ایک مصنوعی خدا جو عیسائیوں نے بنا لیا ہے۔۔۔۔۔۔(یہ شک ٹھیک نہیں کہ شائد برس میں مرنا ممکن ہے۔ناقل) اگر اِسی طرح کی قسم کسی راستی کی آزمائش کے لئے ہم کو دی جائے تو ہم ایک برس کیا دس برس تک اپنے زندہ رہنے کی قسم کھا سکتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ دینی بحث کے وقت میں ضرور خدا تعالیٰ ہماری مدد کرے گا۔‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ ۶۸،۶۹) اور فرمایا:۔’’میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مقابلہ کے وقت ضرور مجھے زندہ رکھ لے گا (اور اس قسم والے برس میں ہم نہیں مریں گے۔ناقل)کیونکہ ہمارا خدا قادر اور حیّ و قیّوم ہے۔مریم عاجزہ کے بیٹے کی طرح نہیں‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ ۱۱۳)