انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 448

انجام آتھم — Page xxix

۱۔’’ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب (یعنی موت) اُ س وقت تک تھما رہے جب تک کہ وہ (یعنی آتھم) بے باکی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا کرے‘‘ ۲۔’’وہ بڑا حصّہ ہاویہ جو موت سے تعبیر کیا گیا ہے اُس میں کسی قدر (آتھم صاحب کو) مہلت دی گئی ہے۔‘‘ ۳۔’’یاد رہے کہ مسٹر عبداﷲ آتھم میں کامل عذاب (یعنی موت۔ناقل) کی بنیادی اینٹ رکھ دی گئی ہے اور وہ عنقریب بعض تحریکات سے ظہور میں آ جائے گی۔‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحہ ۱۰،۱۱ مفہوماً) ۴۔اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ میں لکھا :۔’’اور ہنوز بس نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ مَیں بس نہیں کروں گا جب تک اپنے قوی ہاتھ کو نہ دکھلاؤں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلّت ظاہر نہ کروں۔ہاں اُس نے اپنی اس عادت اور سُنت کے موافق جو اس کی پاک کتابوں میں مندرج ہے آتھم صاحب کی نسبت تاخیر ڈال دی کیونکہ مجرموں کے لئے خدا کی کتابوں میں یہ ازلی وعدہ ہے جس کا تخلّف روا نہیں کہ خوفناک ہونے کی حالت میں اُن کو کسی قدر مہلت دی جاتی ہے اور پھر اصرار کے بعد پکڑے جاتے ہیں۔۔۔اب اگر آتھم صاحب قسم کھالیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفاء کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔‘‘ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۱۱۴) ۵۔رسالہ ’’ضیا ء الحق‘‘ مطبوعہ مئی ۱۸۹۵ء میں فرمایا:۔’’مگر تاہم یہ کنارہ کشی بے سود ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔نادان پادریوں کی تمام یاوہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے۔۔۔۔۔۔آتھم اس جرم