انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvi of 448

انجام آتھم — Page xxvi

بیان کا مصدّق ہو گا۔لیکن اگر دُنیا کی ریاکاری سے اِس مقابلہ پر آئے گا تو پھر الٰہی عذاب کامل طور سے رجوع کرے گا۔‘‘ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۱۰،۱۱) اور فرمایا:۔’’اگر آتھم کو عیسائی لوگ ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں اور پھر ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائیں گے۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳) اور آپؑ نے نہایت تحدّی سے فرمایا کہ اگر رجوع کیا ہے اور پھر منکر ہے تو قسم کھانے کے بعد ’’ضرور بغیر تخلّف اور بغیر استثناء کسی شرط کے ان پر موت آئے گی‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ ۶۶مفہوماً ) اور فرمایا:۔’’اگر آتھم صاحب نے جھوٹی قسم کھا لی تو ضرور فوت ہو جائیں گے۔‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ ۷۰) نیز فرمایا:۔قسم کھانے کے بعد خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ فیصلہ قطعی کرے۔سو قسم کے بعد ایسے مکّار کا پوشیدہ رجوع ہرگز قبول نہیں ہو گا۔‘‘ (انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ ۸۱) پھر آپؑ نے پادریوں کو قسم کا واسطہ دے کر آتھم کو قسم کھانے پر آمادہ کرنے کے لئے اپیل کی اور فرمایا کہ ’’جو ولد الحلال ہے اور درحقیقت عیسائی مذہب کو ہی غالب سمجھتا ہے تو چاہئے کہ ہم سے دو ہزار روپیہ لے اور آتھم صاحب سے ہمارے منشاء کے موافق قسم دلا دے پھر جو کچھ چاہے ہمیں کہتا رہے۔‘‘(انوارالاسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۹صفحہ ۸۶) مگر آتھم صاحب پر کسی کی اپیل کا اثر نہ ہوا اور قسم کھانے پر آمادہ نہ ہوئے۔آتھم صاحب کا عذر آتھم صاحب سے جب قسم کا باصرار مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے کہا :۔اگر مجھے قسم دینا ہے تو عدالت میں میری طلبی کرایئے یعنی بغیر جبر عدالت میں قسم نہیں