انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 448

انجام آتھم — Page xxv

ایک ہزار روپیہ انعام مقرر کیا۔پھر دوسرے اشتہار میں دو ہزار روپیہ اور تیسرے اشتہار میں تین ہزار روپیہ اور چوتھے اشتہار میں چار ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا اگر وہ یہ قسم کھا جائیں کہ ’’اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رُعب ایک طرفۃ العین کے لئے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام (صلی اﷲعلیہ وسلم ) کو ناحق پر سمجھتا رہا اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسٰی کی ابنیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتا ہوں اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پروٹسٹنٹ کے عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلافِ واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے خدائے قادر مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کر۔(انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۶) نیز فرمایا:۔’’اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔‘‘ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۱۱۴) نیز آپؑ نے فرمایا:۔’’اگر تاریخ قسم سے ایک سال تک زندہ سالم رہا تو وہ اُس کا روپیہ ہو گا اور پھر اُس کے بعد یہ تمام قومیں مجھ کو جو سزا دینا چاہیں دیں۔اگر مجھ کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کریں تو مَیں عذر نہیں کروں گا۔اور اگر دنیا کی سزاؤں میں سے مجھ کو وہ سزا دیں جو سخت تر سزا ہے تو میں انکار نہیں کروں گا اور خود میرے لئے اِس سے زیادہ کوئی رسوائی نہیں ہو گی کہ مَیں اُن کی قسم کے بعد جس کی میرے ہی الہام پر بِنا ہے جھوٹا نکلوں۔‘‘ (ضیاء الحق، روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۱۶،۳۱۷) مگر آپؑ نے واضح الفاظ میں فرما دیا:۔’’اور یاد رکھو کہ وہ اِس اشتہار کی طرف رُخ نہیں کرے گا کیونکہ کاذب ہے اور اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ وہ اِس خوف سے مرنے تک پہنچ چکا تھا۔۔۔اور اُس کا دل گواہی دے گا کہ ہمارا الہام سچّا ہے گو وہ اِس بات کو ظاہرنہ کرے مگر اس کا دل اس