انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 448

انجام آتھم — Page xxiv

درحقیقت اسلامی پیشگوئی کی ہیبت کا نتیجہ تھے اور یہ حملے اُن کے مرعوب او ر خوف زدہ دل اور دماغ کے تصوّری تمثّلات تھے۔پس اسلامی پیشگوئی کا ہولناک اثر اس کے دل پر ہوا اور اُس نے اپنے دل کے تصوّرات اور اپنے افعال و حرکات اور خوفِ شدید اور اپنے ہراساں دل سے عظمتِ اسلامی کو قبول کر لیا۔اور خوف دکھایا۔اور سخت ڈرا۔اِس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی سنّت کے موافق اُس سے وہ معاملہ کیا جو ڈرنے والے دل سے ہونا چاہئے۔حق کی طرف جُھکنا اور اسلامی عظمت کو اپنی خوفناک حالت کے ساتھ قبول کرنا درحقیقت ایک ہی بات ہے۔اور یہ حالت ایک رجوع کرنے کی قسم ہے۔اگرچہ ایسا رجوع عذاب آخرت سے نہیں بچا سکتا۔مگر عذاب دنیوی میں ضرور تاخیر ڈال دیتا ہے۔آپؑ نے قرآن و بائیبل کے حوالہ جات سے ثابت کیا کہ الہامی پیشگوئیوں سے ڈرنا رجوع میں داخل ہے اور رجوع عذاب میں تاخیر ڈال دیتا ہے۔تیسرا قرینہ آتھم کے رجوع الی الحق کا یہ ہے کہ الہام نے ظاہر کر دیا ہے کہ اس نے پیشگوئی کی شرط کے مطابق ایسا رجوع الی الحق کیا ہے جس کی وجہ سے وہ کامل ہاویہ یعنی موت کے عذاب سے بچ گیا۔اور ایسا اس لئے بھی ہونا چاہئے تھا کہ آتھم کی موت کے معاملہ کو فریقِ مخالف نے پہلے مشتبہ کر دیا تھا کہ آتھم کے مرنے کی تو ایک ڈاکٹر نے خبربھی دے رکھی ہے کہ چھ ماہ تک مر جائے گا۔کوئی کہتا مرنا کوئی نئی بات ہے۔کوئی کہتا کمزور بڈھا ہے موت کیا تعجب۔کوئی کہتا جادو سے مار دیں گے۔اِس لئے خدا تعالیٰ نے موت کے پہلو کو ٹال دیا اور مسٹر آتھم کے دل پر عظمتِ اسلام کا رُعب ڈال کر پیشگوئی کے شرط والے پہلو سے اُس کو حصّہ دے دیا اور وہ خدا تعالیٰ کی قدیم سنّت کے موافق موت سے بچ گیا۔چوتھا قرینہ آتھم کے رجوع الی الحق کا اُس کا باوجود چار ہزار روپیہ انعام دیئے جانے کے قسم کھانے سے انکار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آتھم کو ایک رجسٹری خط میں اپنے الہام کا ذکر کر کے لکھا کہ بجز خدا تعالیٰ اور میرے اور آپ کے دل کے اور کسی کو خبر نہیں۔سو اگر آپ الہام کو سچا نہیں سمجھتے تو تین مرتبہ قسم کھا کر صاف کہہ دیں کہ یہ الہام جھوٹا ہے۔اگر الہام سچا ہے اورمیں نے ہی جھوٹ بولا ہے تو اے قادر غیّور خدا مجھ کو سخت عذاب میں مبتلا کر اور اُسی میں مجھ کو موت دے دے۔آپؑ نے ایسی قسم کھانے پر