انجام آتھم — Page xx
نشان دیا اُس کی تفصیل ہم کتاب کی اشاعت کے وقت لکھیں گے۔جنگِ مقدس یعنی مباحثہ کے آخری دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا:۔’’ آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دُعا کی کہ تُو اِس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اِس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچّے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اُس کو سخت ذلّت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اُس کی اس سے عزّت ظاہر ہو گی۔‘‘ (جنگِ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ ، صفحہ ۲۹۱، ۲۹۲) اِس پیشگوئی کے اعلان پر یہ پندرہ دن کی جنگِ مقدس ختم ہو گئی اور اِس پیشگوئی کے نتیجہ کا لوگ انتظار کرنے لگے۔اور اﷲ تعالیٰ کا چونکہ منشا تھا کہ اِس نشان کو ایک عظیم الشان صورت میں ظاہر کرے اور اُس کی صورت یوں ہوئی کہ جب پیشگوئی کی میعاد پندرہ ماہ (از ۵؍ جون ۱۸۹۳ء تا ۵ ؍ ستمبر ۱۸۹۴ء) ختم ہو گئی اور عبداﷲ آتھم جو اس جنگ مقدس میں مناظر تھا مطابق پیشگوئی رجوع الی الحق کرنے کی وجہ سے نہ مرا تو عیسائیوں نے اُسے عیسائیت کی اسلام پر فتح قرار دیا۔اور چھ ستمبر کو انہوں نے امرتسر میں ایک جلوس بھی نکالا۔اور اُن کی خوشی منانے میں بعض نادان علماء اور اُن کے تابع نام کے مسلمان بھی شریک ہوئے۔اور ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میعاد گذرتے ہی ۶؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو رسالہ ’’انوار الاسلام‘‘ شائع فرمایا جس میں آپ نے یہ تحریر فرمایا کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کے ارادہ اور حکم کے موافق نہایت صفائی سے میعاد کے اندر پوری ہو گئی۔اور اگر عبداﷲ آتھم کا دل جیسا کہ پہلے تھا ویسا ہی توہین اور تحقیرِ اسلام پر قائم رہتا اور اسلامی عظمت کو قبول کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کوئی حصّہ نہ لیتا تو اس میعاد کے اندر اُس کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔لیکن خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے جتلا دیا کہ ڈپٹی عبداﷲ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اس کے رُعب کو تسلیم کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسی قدر حصّہ لیا۔جس حصّہ نے اُس کے وعدۂ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈال دی اور ہاویہ میں تو گرا لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیا جس کا نام موت