انجام آتھم — Page 56
روحانی خزائن جلد ۱۱ ۵۶ رساله دعوت قوم وَهُم مِن فشل وَ إِذا قيل لهم أمنوا كما أمن الناس قالوا انؤمن اور وہ لوگ فشل سے۔ اور جب ان کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسا کہ اچھے آدمی ایمان لائے۔ تو جواب میں كَمَا آمَنَ السِّفهاء الا انهم هم السّفَهَاءُ ولكن لا يعلمون۔ قل کہتے ہیں کہ کیا اس طرح ایمان لائیں جیسا کہ سفیہ اور بیوقوف ایمان لائے۔ خوب یاد رکھو کہ در حقیقت بیوقوف ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله۔ قيل ارجعوا إلى الله اور سفیہ یہی لوگ ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ ہم کیسی غلطی پر ہیں۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو فلا ترجعون۔ وقيل استحوذوا فلا تستحوذون۔ الحمد لله الذي تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ کہا گیا کہ تم رجوع کرو سو تم نے رجوع نہ کیا اور کہا گیا کہ تم اپنے جَعَلكَ المسيح ابنَ مَرْيَمَ ۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صَبَرَ أولو العزم و ساؤس پر غالب آجاؤ سو تم غالب نہ آئے۔ سب تعریف خدا کو ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ اس جگہ فتنہ ہے۔ سو تبت يدا ابي لَهَبٍ وتبّ۔ ما كان له أن يدخل فيها إلا خائفًا۔ و اولو العزم لوگوں کی طرح صبر کر۔ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کو نہیں چاہئے تھا کہ وہ اس مَا أَصَابَكَ فَمِنَ الله أَلَا إِنّها فتنة من الله ليحب حباجما۔ فتنہ میں دخل دیتا یعنی اس کا بانی ہوتا مگر ڈرتے ہوئے۔ اور تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر اسی قدر جو خدا نے مقرر کی۔ یہ فتنہ حبا من الله العزيز الاكرم۔ عَطَاءً غير مجذوذ۔ وقت الابتلاء خدا کی طرف سے ہے تا وہ تجھ سے بہت ہی پیار کرے یہ خدا کا پیار کرنا ہے جو غالب اور بزرگ ہے اور یہ پیار وہ عطا ہے جو کبھی حاشیہ نمبرا۔ یہ جو فرمایا کہ تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے ۔ اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی ، استقامت کا پانی ، تقویٰ کا پانی ، وفا کا پانی ، صدق کا پانی ، حُبّ اللہ کا پانی ہے ۔ جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے۔ اور ہر یک بے ایمانی اور بدکاری کی جڑ بزدلی اور نا مردی ہے۔ جب قوت استقامت باقی نہیں رہتی تو انسان گناہ کی طرف جھک جاتا ہے ۔ غرض فشل شیطان کی طرف سے ہے اور عقائد صالحہ اور اعمال طیبہ کا پانی خدا تعالیٰ کی طرف سے ۔ جب بچہ پیٹ میں پڑتا ہے تو اس وقت اگر بچہ سعید ہے اور نیک ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر روح القدس کا سایہ ہوتا ہے اور اگر بچہ شقی ہے اور بد ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر شیطان کا سایہ ہوتا ہے اور شیطان اس میں شراکت رکھتا ہے اور بطور استعارہ وہ شیطان کی ذریت کہلاتی ہے اور جو خدا