اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 822

اَلھُدٰی — Page 293

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۸۹ الهدى ولا يخرج من أفواههم قول يقرب الصدق والصواب۔ ولا يبغون في اور کوئی حق اور سچ بات ان کے منہ سے نہیں نکلتی۔ اور اپنے دلوں میں بجز ہلاکت أنفسهم إلا الهلاك والتباب لا يذاكرون ملوكهم بما هو خير اور تباہی کے اور کچھ نہیں ڈھونڈتے ۔ بادشاہوں سے ان باتوں کا تذکرہ نہیں کرتے جو لهم في هذه ويوم المكافات ۔ بل يتركونهم كالسباع المفترسة | اس دنیا میں اور آخرت میں ان کے کام آئیں بلکہ ان کو شکاری درندوں اور سانپوں کی طرح والحيوات۔ ويسعون في كل وقت من الأوقات أن ينبأ سمعهم رہنے دیتے ہیں ۔ اور ہر گھڑی اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ان کے کان عن أوامر الله وسنن خير الكائنات۔ ولا يُخوفونهم خدا کے امر اور رسول خدا کی سنت کے سننے سے دور رہیں۔ اور غفلت کے بد انجام من عواقب الغفلة ولا يؤلّـمـونهم عند ارتكاب المعصية۔ (٢٢) سے انہیں نہیں ڈراتے۔ اور بدکاری کرتے وقت انہیں بدکار نہیں ٹھہراتے ۔ سو ایسی فهل هم بهذه السيرة لهذه الملوك إلا كـحـفـرة لـلـرجـلـيـن خصلت اور چال چلن کے لوگ ان بادشاہوں کے حق میں ایسے ہیں جیسے گڑھا المتخاذلين أو كوقود لنار أو كغشاوة على العينين۔ لا يُطفئون | لڑکھڑانے والے پاؤں کے حق میں۔ یا جیسے ایندھن آگ کے لئے یا پردہ آنا آنکھوں پر ۔ أوارهم بل يحمدون عثارهم ولذالك صارت ملوکهم غرضا ان کی پیاس کو نہیں بجھاتے ۔ بلکہ ان کی لغزشوں کی تعریف کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے لـحـصــائد الألسنة۔ وسُمّوا قومًا كُســـالـي فـي الـجـرائــد بادشاہ لوگوں کی زبانوں کے نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اور یورپ کے اخبار انہیں ست اور المغربية۔ بل أجمع أهل الرأى من النصارى نظرًا على هذه نالائق لکھتے ہیں۔ بلکہ ان حالات کو دیکھ کر عیسائی اہل الرائے متفق ہو کر کہتے ہیں کہ