اَلھُدٰی — Page 284
الهدى روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۸۰ ظننتم أن الله لا يعلم ما تعلمون أو لا يقدر على ما تقدرون ۔ تمہیں گمان ہے کہ جو تم جانتے ہو وہ خدا نہیں جانتا۔ کیا وہ قادر نہیں اُن پر جن پر تم قادر ہو۔ ایسا كلا بل لا تعرفونه حق المعرفة وتستكبرون والله نہیں بلکہ تم اُسے اچھی طرح نہیں پہچانتے اور تکبر کرتے ہو ۔ اور خدا تعالیٰ جسے چاہے علم میں يجعل لمن يشاء بسطة في العلم أفلا تفكرون وقد وسعت اور فراخی عطا فرمائے کیا تم سوچتے نہیں۔ اور تم سب گڑھے میں گرنے کے لئے کنتم على شفا حفرة فرحمكم الله أفلا تشكرون۔ طیار تھے۔ پس خدا نے تم پر رحم کیا کیا تم شکر نہیں کرتے۔ مَا بال المسلمين وَمَا العلاج مسلمانوں کا کیا حال ہے اور في هذا الحين۔ اس وقت علاج کیا چاہیے۔ ظهر الفساد في المسلمين۔ وصارت ككبريت أحمر زُمر الصالحين ما | مسلمانوں میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہے۔ اور نیک لوگ سرخ گندھک کی مانند ہو گئے ہیں۔ ان میں نہ تو اخلاق ترى فيهم أخلاق الإسلام۔ ولا مواساة الكرام۔ لا ينتهون من التخليط اسلام رہے ہیں اور نہ بزرگوں کی سی ہمدردی رہ گئی ہے۔ کسی سے برا آنے سے باز نہیں آتے خواہ کوئی ولو بالخليط۔ ويُجرّعون الناس من الحميم۔ ولو كان أحد كالولي پیار بیار کیوں نہ ہو۔ لوگوں کو کھولتا ہوا پانی پلاتے ہیں۔ خواہ کوئی خالص دوست ہی ہو۔ اور دسواں حصہ بھی الحميم۔ ولا يكافئون بالعشير۔ ولو كان أخ أو من العشير۔ لا يصافون بدلہ میں نہیں دیتے خواہ بھائی ہو یا باپ یا کوئی اور رشتہ دار ہو۔ اور کسی دوست اور حقیقی بھائی سے بھی بچی (۳۸) شفيقا ولا شقيقا۔ ويستقلون جزيل المواسين۔ ولا يُحسنون إلى المحسنين محبت نہیں کرتے اور ہمدردوں کی بڑی بھاری ہمدردی کو بھی حقیر سمجھتے ہیں اور محسنوں سے نیکی نہیں کرتے۔