اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 822

اَلھُدٰی — Page 283

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۹ الهدى فإن كان مدير المنار تزرّى على لهذا الاعتذار فندعو له لغيرته لله (٣٦) سوا گر منار کا ایڈیٹر اس جہت سے مجھ سے بگڑا ہے تو میں اس کی غیرت کی وجہ سے اس کے لئے الغيور الغفار۔ ولو قمتُ على مقامه لقلتُ كمثل كلامه ولعنة الله خدا سے دعا کرتا ہوں اور اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو میں بھی وہی کہتا جو اس نے کہا۔ میرے على من أنكر بإعجاز القرآن وجوهر حُسامه وتفرّد دُرّة كلمه نزدیک خدا کی لعنت اس پر جو قرآن کے اعجاز کا انکار کرتا اور اپنے کلام اور نظام کو بجائے خود ونظامه ووالله إنا نشرب من عينه۔ ونتزين بزينه۔ ولذالك يسعى کوئی مستقل شے سمجھتا ہے۔ اور خدا کی قسم ہم تو اسی چشمہ سے پیتے اور اسی کی زینت سے على كلامنا نور وصفاء ۔ وفى نطقنا يبهر لمعان وضياء۔ وبركة آراستہ ہوتے ہیں۔ اسی سبب سے تو ہمارے کلام میں نور اور صفا ہوتی اور ہماری گویائی میں شفاء* ۔ وطلاوة وبهاء ۔ وليس على منة أحدٍ من غير الفرقان وإنّه روشنی اور شفا اور تازگی اور خوبصورتی چمکتی ہے۔ اور مجھ پر قرآن کے سوا اور کسی کا احسان نہیں ربانى بتربية لا يُضاهئها الأبوان وسقانى الله به معينًا۔ ووجدناه اور اس نے میری ایسی پرورش کی ہے کہ ویسی ماں باپ بھی تو نہیں کرتے ۔ اور خدا نے مجھے اُس منيرًا ومُعينًا۔ فلا نعرف التهابا ولا حرورا ۔ وشربنا من كأس كان سے خوشگوار پانی پلایا۔ اور ہم نے اُس کو روشن کرنے والا اور مددگار پایا۔ پانی پلا دیا ہے کہ اب مزاجها كافورا۔ وإن كلامي هذا ليس من قلمي السقيم بل كلم مجھے کوئی سوزش اور گرمی محسوس نہیں ہوتی اور ہم نے کا فوری پیالہ پیا ہے۔ اور یہ میرا کلام میری أفصحت من لدن حكيم عليم بإفاضة النبى الرؤوف الرحيم ۔ فلا نا تو ان بیمار قلم کی طرف سے نہیں بلکہ یہ تو حکیم علیم کی باتیں ہیں نبی کریم کے افاضہ کے وسیلہ سے۔ تجعلوا رزقكم أن تكذبوها بل فكروا كالزكي الفهيم أم سو تم تکذیب پر ہی کمر نہ باندھ لو بلکہ دانا اور زکی بن کر سوچو۔ کیا حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ بمطابق عربی عبارت و ترجمہ و شفاء ہونا چاہیے۔ (ناشر)