اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 32

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲ مباحثہ لدھیانہ ۳۰ اب جب ہم ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گرداب حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ کس حدیث کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیر صحیح۔ تب ہم کو عقل خدا داد یہ طریق فیصلہ کا بتاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انہیں صحیح سمجھنا چاہئے ۔ اور ازالة الاوهام کے صفحہ ۲۲۴ میں آپ نے مسلم کی اس حدیث کو جس میں یہ بیان ہے کہ دجال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا جو بخاری میں بصفحہ ۱۰۵۶ مروی ہے یہ کہہ کر اڑایا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی اس حدیث کے مخالف ہے جس میں یہ وارد ہے کہ یہ دجال مشرف باسلام ہو چکا تھا ایسا ہی آپ نے صحیحین کی ان احادیث کو اڑایا ہے جن میں دجال کے ان خوارق کا بیان ہے کہ اسکے ساتھ بہشت اور دوزخ ہونگے اور اسکے کہنے سے زمین شور سرسبز ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ کا اس مقام میں یہ کہنا کہ میں نے صحیحین کی کسی حدیث کو موضوع یا غیر صحیح قرار نہیں دیا اور ان احادیث کے صحیح معنے بیان کرنے میں خدا تعالیٰ میری مدد کرتا ہے خلاف واقعہ نہیں تو کیا ہے؟ آپ صحیحین کی احادیث کو موضوع جانتے ہیں اور ساکت الاعتبار سمجھتے ہیں ۔ پھر اس اعتقاد کو طولانی تقریروں اور ملمع سازیوں سے چھپاتے ہیں اور یہ خیال نہیں فرماتے کہ جن باتوں کو آپ چھاپ چکے ہیں وہ کب پھتی ہیں۔ (۳) آپ لکھتے ہیں کہ قرآن کو حدیث کا معیار صحت ٹھہرانے میں امام کے نشان دہی کا بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان صحیح احادیث کا معیار قرآن کو سمجھتا ہے میں آپ کے اس دعوئی کا بھی منکر ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مسلمان جن کے اقوال سے استناد کیا جاتا ہے اس بات کا قائل نہیں۔ آپ کم سے کم ایک مسلمان کا علماء سلف سے نام لیں جو آپ کے خیال کا شریک ہو اور اگر باوجود ان دعاوی کے آپ پر بار ثبوت نہیں ہے تو آپ یہ امر کسی منصف سے ( مسلمان ہو یا غیر مذہب ) کہلا دیں۔ اس باب میں جو آیات آپ نے نقل کی ہیں ان کو آپ کے دعاوی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی تفصیل جواب تفصیلی میں ہوگی۔ انشاء الله تعالی۔ (۴) اجماع کے باب میں میرے کسی سوال کا آپ نے جواب نہیں دیا براہ مہربانی میرے سوال پر نظر ثانی کریں اور ان باتوں کا جواب دیں کہ اجماع کی تعریف جو آپ نے لکھی ہے کس کتاب میں ہے اور بعض صحابہ کے ان ہے اور بعض صحابہ کے اتفاق کو کون شخص اجماع سمجھتا ہے ۔ سکوت کل کا جو آپ نے دعوی کیا ہے یہ بھی محتاج نقل و ثبوت ہے آپ بہ نقل صحیح ثابت کریں کہ حضرت عمر و غیرہ نے ابن صیاد کو دجال کہا تو اس وقت جملہ اصحاب یا فلاں فلاں موجود تھے اور انہوں نے