اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxvii of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxvii

نمبر۲ میں صاف طور پر لکھ دیا کہ ’’میری اصل دلیل حیاتِ مسیح علیہ السلام پر آیت اولیٰ ہے (یعنی وان من اھل الکتٰب الّا لیؤمننّ بہ قبل موتہٖ) ہے۔میرے نزدیک یہ آیت اس مطلوب پر دلالت کرنے میں قطعی ہے۔دوسری آیات محض تائید کے لئے لکھی گئی ہیں۔جناب مرزا صاحب کو چاہئے کہ اصل بحث آیت اولیٰ کی رکھیں۔‘‘ (الحق مباحثہ دہلی۔روحانی خزائن جلد۴ صفحہ ۱۷۰) اور وجہ استدلال یہ بیان کی کہ لیؤمننّ میں نون تاکیدی ہے جو مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے۔اور لکھا کہ اگر اس کے خلاف کوئی آیت یا حدیث ایسی پیش کی جائے جس میں نون تاکید کا حال یا ماضی کے لئے یقینی طور پر آیا ہو یا کسی کتاب نحو میں اس کے خلاف لکھا ہو تو میں اپنے اس مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم کر وں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن کی اِس بناء استدلال کو قرآن مجید کی کئی آیات پیش کر کے باطل ثابت کر دیا۔اور فرمایا کہ اگر اس وجۂ استدلال کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی آیت کے دو استقبالی معنے اَور ہو سکتے ہیں۔جو مولوی محمد بشیر صاحب کے پیش کردہ معنے سے زیادہ معقول ہیں۔۱۔’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیحؑ پر ایمان نہیں لائے گا۔‘‘ ۲۔’’کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اُس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب نبئ خاتم الانبیاء پر اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔‘‘ اِن دونوں معنوں کی صحت آپؑ نے بحوالہ کتب تفاسیر پیش فرمائی اور قطعیۃ الدلالت اُسے کہتے ہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال پیدا نہ ہو سکے۔پس یہ آیت بھی حیاتِ مسیحؑ پر قطعیۃ الدلالۃ ثابت نہ ہوئی۔اِس ضمن میں مَیں اپنے ایک مباحثہ کا بھی ذکر کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں۔۳۱؍ اگست ۱۹۲۰ء کو بمقام سار ُ چور ضلع امرتسر میرے اور مولوی عبداﷲ صاحب مولوی فاضل (فتح گڑھ) کے درمیان حیات و وفات مسیحؑ پر مباحثہ ہوا۔جو بعد میں چھپ کر شائع ہو گیا تھا۔اُس میں غیر احمدی مناظر نے بھی یہی