اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxviii of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxviii

آیت بطور دلیل بیان کی اور اُس کے پیش کردہ معنوں پر میں نے کئی اعتراضات کئے اور اُس کے اس دعویٰ کہ لیؤمننّ میں لام اور نون تاکید کا ہے۔اس لئے اِس کے معنے استقبال کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتے۔جواب میں َ میں نے قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات پیش کی جس میں دو جگہ نون تاکید کا ہے اور معنے حال کے ہیں۔(النساء : ۷۳،۷۴ ) اِس کے معنے مولانا شاہ رفیع الدین صاحب محدّث دہلوی نے یہ کئے ہیں:۔’’اور تحقیق بعضے تم میں سے البتہ وہ شخص ہیں کہ دیر کرتے ہیں نکلنے میں۔پس اگر پہنچ جاتی ہے تم کو مصیبت۔کہتا ہے تحقیق احسان کیا اﷲ نے اوپر میرے جس وقت کہ نہ ہوا میں ساتھ اُن کے حاضر۔اور اگر پہنچ جاتا ہے تم کو فضل خدا کی طرف سے البتہ کہتا ہے کہ گویا نہ تھا درمیان تمہارے اور درمیان اس کے دوستی۔‘‘ (مباحثہ سارچور صفحہ ۳۳،۳۴ باردوم باہتمام محمدیامین تاجرکتب قادیان دارالامان) پس اِس آیت میں لَیُبَطِّءَنَّ کا ترجمہ ’’دیر کرتے ہیں‘‘اور لَیَقُوْلَنَّ کا ترجمہ ’’البتہ کہتا ہے‘‘ حال کا کیا ہے۔اِسی طرح میں نے اس مباحثہ میں یہ حدیث بھی درج کی ہے کہ جب حضرت امیر المومنین عمر رضی اﷲ عنہ وفات پانے لگے تو آپ نے اپنے بیٹے عبداﷲؓ کو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ اُن کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دفن کئے جانے کی اجازت کے لئے درخواست کریں۔تو حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ میں اِس جگہ کو اپنے لئے چاہتی تھی۔’’وَلأوْثِرَنَّہٗ الْیَوْمَ عَلٰی نَفْسِیْ‘‘ لیکن آج میں حضرت عمرؓ کو اپنے نفس پر مقدم کرتی ہوں۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ کے وفات پانے کے بعد اجازت حاصل کی گئی۔پس اس روایت میں بھی ’’لاوثرنہ‘‘ کے باوجود مؤکد بہ نون ثقیلہ ہونے کے حال کے معنے ہیں۔‘‘