اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxvi of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxvi

شیخ الکل صاحب نے دونوں طریقوں میں سے کسی طریق کو منظور نہ کیا اور حیات و وفات مسیح پر بحث کرنے سے قطعی طور پر انکار کر دیا اور اپنے آدمیوں کی معرفت سٹی مجسٹریٹ کو کہلا بھیجا کہ یہ شخص عقائد اسلام سے منحرف ہے۔جب تک یہ شخص اپنے عقائد کا ہم سے تصفیہ نہ کرے ہم وفات و حیات مسیحؑ کے بارہ میں ہرگز بحث نہ کریں گے۔یہ تو کافر ہے کیا کافروں سے بحث کریں۔اس جلسہ میں خواجہ محمد یوسف صاحب رئیس و وکیل و آنریری مجسٹریٹ علی گڑھ بھی موجود تھے۔انہوں نے حضورؑ سے کہا کہ یہ عقائد آپ کی طرف از راہِ افتراء منسوب کئے جاتے ہیں تو مجھے ایک پرچہ پر یہ سب باتیں لکھ دیں چنانچہ آپ نے اپنے عقائد کے بارہ میں ایک پرچہ لکھ دیا اور خواجہ صاحب کو دے دیا۔جسے انہوں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلند آواز سے سُنایا اور تمام معزز حاضرین نے جو نزدیک تھے سن لیا۔الغرض شیخ الکل اپنی ضد سے باز نہ آئے اور حیات و وفات مسیح پر بحث کرنے سے انکار کرتے رہے۔تب سپرنٹنڈنٹ پولیس نے اس کشمکش سے تنگ آ کر اور لوگوں کی وحشیانہ حالت اور کثرتِ عوام کو دیکھ کر خیال کیا کہ اب بہت دیر تک انتظار کرنا اچھا نہیں لہٰذا عوام کی جماعت کو منتشر کرنے کے لئے حکم سنا دیا گیا کہ چلے جاؤ۔بحث نہیں ہو گی۔اِس کے بعد پہلے مولوی سید نذیر حسین صاحب مع اپنے رفقاء کے مسجد سے نکلے اور بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے اصحاب۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اشتہار ۲۳؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء میں اس جلسۂ بحث کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔’’اے دہلی تجھ پر افسوس! تُونے اپنا اچھا نمونہ نہیں دکھلایا۔‘‘ مولوی محمد بشیر صاحب سے مباحثہ جب شیخ الکل اور دوسرے علماء کا حیات و وفاتِ مسیحؑ پر مباحثہ کرنے سے انکار اور فرار سب لوگوں پر واضح ہو گیا۔تو دہلی والوں نے مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی کو جو اُن دنوں بھوپال میں ملازم تھے مباحثہ کے لئے بلایا۔جس نے خلاف مرضی شیخ الکل اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر علماء حیات و وفات مسیحؑ پر بحث کرنا منظور کر لیا۔اور انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ اُن کی شکست ہماری شکست متصوّر نہ ہو گی۔مولوی محمد بشیر صاحب نے حیات مسیحؑ ثابت کرنے کے لئے چار آیات پیش کیں۔لیکن اپنے پرچہ