اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxix

آخری پرچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تحریرفرمایا کہ مولوی محمد حسین صاحب اصل موضوع مباحثہ یعنی حیات و وفات مسیحؑ سے گریز کر رہے ہیں اور نکمّی اور فضول اور بے تعلق باتوں میں وقت ضائع کیا ہے۔اب اِن تمہیدی امور میں زیادہ طول دینا ہرگز مناسب نہیں۔ہاں اگر مولوی صاحب نفسِ دعویٰ میں جومیں نے کیا ہے بالمقابل دلائل پیش کرنے سے بحث کرنا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔اور فرمایا کہ:۔’’ میں ان کے مقابل پر اس طورفیصلہ کے لئے راضی ہوں کہ چالیس۴۰ دن مقرر کئے جائیں اور ہر ایک فریق اعملوا علی مکانتکم انی عامل پر عمل کرکے خدا تعالیٰ سے کوئی آسمانی خصوصیت اپنے لئے طلب کرے۔جو شخص اس میں صادق نکلے اور بعض مغیبات کے اظہار میں خدائے تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہو جائے وہی سچا قرار دیا جائے۔اے حاضرین اس وقت اپنے کانوں کو میری طرف متوجہ کرو کہ میں اﷲ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی محمد حسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالیٰ کی طرف توجّہ کر کے وہ آسمانی نشان یا اسرارِ غیب دکھلا سکیں جومیں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کریں اور جو تاوان چاہیں میرے پر لگاویں۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ (الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد۴صفحہ۱۲۴) اِس پر یہ بحث لدھیانہ ختم ہو گئی۔مولوی نظام الدین صاحب کی بیعت جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بغرض مباحثہ لدھیانہ تشریف لائے تو ایک دن مولوی نظام الدین صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح ؑ کی زندگی پر قرآن میں کوئی آیت موجود بھی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بولے کہ بیس آیتیں موجود ہیں۔مولوی نظام الدین صاحب بولے کہ پھر مرزا صاحب کے پاس جا کر گفتگو کروں۔انہوں نے کہا کہ ہاں جاؤ۔انہوں نے جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ اگر قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات کی آیت موجودہو تو مان لو گے۔حضرت اقدسؑ