اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxx
نے فرمایا کہ ہاں ہم مان لیں گے۔مولوی نظام الدین صاحب بولے ایک دو نہیں اکٹھی بیس آیتیں حضرت عیسیٰ کی زندگی پر لادوں گا۔حضورؑ نے فرمایا۔تم ایک آیت ہی لادو گے تو میں قبول اور تسلیم کر لوں گا۔اور اپنا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا چھوڑ دوں گا اور توبہ کروں گا۔مگر یاد رہے کہ ایک آیت بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی زندگی کی نہیں ملے گی۔جب انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے اِس کا ذکر کیا اور کہا کہ میں مرزا کو ہرا آیا ہوں اور میں نے مرزا سے تسلیم کروا لیا ہے کہ اگر میں نے مسیحؑ کی زندگی کی آیتیں لا کر دے دیں تو وہ توبہ کر لے گا۔پس بیس آیتیں مجھے جلد نکال کر دو۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کہا۔تم نے حدیثیں پیش نہیں کیں۔کہا کہ حدیثوں کا ذکر ہی نہیں مقدّم قرآن شریف ہے۔اِس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی گھبرا کر کھڑے ہوگئے۔اور عمامہ سر سے اتار کر پھینک دیا اور کہا کہ ’’تُو مرزا کو ہرا کر نہیں آیا ہمیں ہرا کر آیا ہے۔اور ہمیں شرمندہ کیا۔میں مدّت سے مرزا صاحب کو حدیث کی طرف لا رہا ہوں اور وہ قرآن شریف کی طرف مجھے کھینچتا ہے۔قرآن شریف میں اگر کوئی آیت مسیحؑ کی زندگی کی ہوتی تو ہم کبھی کی پیش کر دیتے۔اِس لئے ہم حدیثوں پر زور دے رہے ہیں۔قرآن شریف سے ہم سرسبز نہیں ہو سکتے۔قرآن شریف تو مرزا کے دعویٰ کو سرسبز کرتا ہے۔۱ ‘‘ مولوی نظام الدین صاحب نے کہا۔اگر قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں ہے اور وہ مرزا صاحب کے ساتھ ہے۔تو پھر میں بھی تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔اس صورت میں مرزا صاحب کا ساتھ دوں گا یہ دین کا معاملہ ہے جدھر قرآن اُدھر میں۔اِس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے ساتھ والے مولوی صاحب سے مخاطب ہو کر کہا یہ نظام الدین تو کم عقل آدمی ہے اِس کو ابوہریرہ والی آیت نکال کر دکھا دو۔مولوی نظام الدین صاحب بولے کہ مجھے ابوہریرہ والی آیت نہیں چاہئے۔میں تو خالص اﷲ تعالیٰ کی آیت لوں گا۔اِس پر دونوں مولویوں نے کہا اے بیوقوف آیت تو اﷲ تعالیٰ کی ہے لیکن ابوہریرہ نے اُس کی تفسیر کی ہے۔مولوی نظام الدین صاحب نے جواب دیا۔مجھے تفسیر کی ضرورت نہیں۔مرزا صاحب کا مطالبہ تو آیتِ قرآنی کا ہے۔پس مجھے تو قرآن کی صریح آیت حیاتِ مسیحؑ پر چاہیئے۔اِس پر مولوی محمد حسین صاحب کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص تو ہاتھ سے گیا۔اُن دنوں مولوی نظام الدین صاحب مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کے ہاں کھانا کھایا کرتے تھے اس لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اُن سے مخاطب ہو کر بولے کہ آپ اِس کی روٹی بند کر دیں۔مولوی نظام الدین صاحب