اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxviii of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxviii

۔جس امر میں حدیثِ نبویہؐ کے معا نی جو کئے جاتے ہیں کتاب اﷲ کے مخالف واقع نہ ہوں تو وہ معانی بطور حجتِ شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے۔لیکن جو معانی نصوصِ بیّنہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے تو ہم حتّی الوسع اس کی تطبیق اور توفیق کے لئے کوشش کریں گے۔اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو اس حدیث کو ترک کر دیں گے۔اور ہر مومن کا یہی مذہب ہونا چاہئے کہ کتاب اﷲ کو بلاشرط اور حدیث کو شرطی طور پر حجت شرعی قرار دیوے۔ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہئے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں۔کیونکہ قرآن قول فصل، فرقان، میزان اور امام اور نور ہے۔اِس لئے جمیع اختلافات کے دُور کرنے کا آلہ ہے اور حدیث کا پایہ قرآن کریم کے پایہ اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔اکثر احادیث غایت درجہ مفید ظن ہیں اور اگر کوئی حدیث تواتر کے درجہ پر بھی ہوتا ہم قرآن کریم کے تواتر سے اس کو ہرگز مساوات نہیں۔پھر حدیثیں دو۲ قسم کی ہیں۔ایک وہ احادیث جو اعمال و فرائضِ دین پر مشتمل ہیں۔جیسے نماز ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ۔یہ تمام اعمال روائتی طور پر نہیں بلکہ اُن کے یقینی ہونے کا موجب سلسِلہء تعامل ہے۔پس ایسی حدیثیں جن کو سلسلہ تعامل سے قوت ملی ہے ایک مرتبہ یقین تک اور دوسری احادیث جو قصصِ ماضیہ یا واقعات آئندہ پر مشتمل ہیں اُن کو مرتبہ ظن سے بڑھ کر تسلیم نہیں کیا جائے گا اور یہ وہ حدیثیں ہیں جنہیں سلسِلہء تعامل سے کچھ رشتہ اور تعلق نہیں۔اِن میں سے اگر کوئی حدیث مخالف یا معارض آیت قرآن ہو گی تو وہ قابلِ ردّ ہو گی۔مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس موقف کی تردید کرتے چلے گئے اور کہتے گئے کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنا مذہب یہ بیان کیا کہ صحیحین کی تمام احادیث قطعی طور پر صحیح اور بلا وقفہ و شرط و بلا تفصیل واجب العمل والاعتقاد ہیں۔اور مسلمانوں کو مومن بالقرآ ن ہونا یہی سکھاتا ہے کہ جب کسی حدیث کی صحت بقوانین روایت ثابت ہو تو اُس کو قرآ ن مجید کی مانند واجب العمل سمجھیں۔جب حدیث صحیح خادم و مفسّرِ قرآن اور وجوب عمل میں مثلِ قرآن ہے۔تو پھر قرآن اس کی صحت کا حَکَم و معیار و محک کیونکر ہو سکتا ہے۔پس سُنت قرآ ن پر قاضی ہے اور قرآن سنّت کا قاضی نہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعلان فرمایا کہ قرآن مجید ’’ کا تاجِ لازوال اپنے سر پر رکھتا ہے اور تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ کے وسیع اور مرصّع تخت پر جلوہ افروز ہے۔‘‘ (الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴صفحہ۱۰۶)