اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 121

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۲۱ مباحثہ لدھیانہ کے دجال ہونے کی قائل تھی اور اگر فرض کے طور پر کوئی فرد باہر رہا ہے تو جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں 119 اجماع کا قتل نہیں۔ الدجال کے لفظ کی نسبت جس قدر آپ نے بیان کیا ہے وہ سب لغو ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ دجال معہود کیلئے الدجال ایک نام مقرر ہو چکا ہے۔ دیکھو صحیح بخاری صفحہ ۱۰۵۵۔ اگر آپ الدجال صحیح بخاری میں بجز دجال معہود کے کسی اور کی نسبت اطلاق ہونا ثابت کر دیں تو پانچ روپیہ آپ کی نذر ہوں گے ۔ ورنہ اے مولوی صاحب ان فضول ضدوں سے باز آؤ! إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُل أو ليك كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا آپ اگر کچھ حدیث سمجھنے کا ملکہ رکھتے ہیں تو الدجال کے لفظ سے استعمال صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں بغیر دجال معہود کے کسی اور میں ثابت کریں۔ ورنہ بقول آپ کے ایسی باتیں کرنا اس شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ یہ آپ ہی کا فقرہ ہے آپ ناراض نہ ہوں۔ ایں ہمہ سنگ است که بر سرے من زدی۔ قوله - آپکا یہ عذر کہ کسی کو امارات قول دیکھ کر ) کسی بات کا قائل ٹھہرانا افتر انہیں اس سے آپکا افترا اور ثابت ہوتا ہے۔ اقول ۔ اگر یہی بات ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعلی امر کا نام کیوں حدیث رکھ کر لیتے ہیں ؟ اور کیوں بخاری نے کہا کہ میں نے تین لاکھ حدیث رسول اللہ کی تقریر کی ؟ ظاہر ہے کہ حدیث بات اور قول کو کہتے ہیں۔ مگر احادیث میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہیں اقوال بھی تو ہیں آپ نے ان افعال کا نام اقوال کیوں رکھا کیا یہ افترا ہے یا نہیں ؟ اگر کہو کہ بطور مسامحت یہ اصطلاح فن حدیث میں جاری ہو گئی ۔ تو اسی طرح آپکو سمجھ لینا چاہئے کہ بہت سی باتیں بطور مسامحت انسان کرتا ہے اور ان کو افتر انہیں کہا جاتا۔ اگر کوئی شخص فقط ہاتھ کے اشارہ سے کسی کو کہے کہ بیٹھ جا تو ناقل اس امر کا بسا اوقات کہہ سکتا ہے کہ اس نے مجھے بیٹھنے کیلئے کہا۔ ایک شخص کسی کو کہتا ہے کہ تو شیر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کہ تو نے افترا کیا۔ اگر یہ شیر ہے تو کہاں شیر کی طرح اس کی کھال ہے اور شیر کی طرح نچے کہاں ہیں دم کہاں ہے۔ ایسا ہی اپنے اجتہاد کے اتباع کا ہر یک کو اختیار ہے جو شخص اجتہاد کے رو سے ایک ظنی امر کو یقینی سمجھ لیتا ہے خواہ اس کی نسبت کچھ کہا جائے مگر اس کو مفتری تو نہیں کہا جاتا۔ میرا اور آپ کا بیان اب جلد پبلک کے سامنے آئے گا لوگ خود اندازہ کر لیں گے۔ حدیث کے راویوں کی احتیاطیں صرف اس غرض سے تھیں کہ ان کا قول حدیث شمار کیا جاتا تھا مگر میرا قول تو حدیث نہیں میں تو صاف کہتا ہوں کہ یہ میرا اجتہاد ہے اور میں اجتہادی طور پر کہتا ہوں ضرور آنحضرت نے ابن صیاد کے دجال ہونے پر خوف ظاہر کیا اور میں نے قرائن موجودہ سے ا بنی اسرائیل : ۳۷