اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 122

۱۲۲ روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ (۱۲۰) استنباط کیا ہے کہ اس خوف کا اظہار ضرور کلام کے ذریعہ سے ہوگا ۔ چنانچہ اصول فقہ کے رُو سے سکوت بھی کلام کا حکم رکھتا ہے۔ اور آنحضرت کے صریح کلام سے بھی جو مسلم میں موجود ہے مترشح ہو رہا ہے کہ آنحضرت ابن صیاد کے دجال ہونے کی نسبت ضرور اندیشہ میں تھے ۔ مسلم کی دوسری حدیثیں غور سے دیکھوتا آپ پر حق کی روشنی پڑے۔ قوله ۔ ایک آپ کا افترا یہ ہے کہ آپ نے رسالہ ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۰۱ میں حدیث و امـامـکـم کے ترجمہ میں اپنی عبارت ملا دی۔ اقول میں کہتا ہوں کہ یہ آپ کے فہم کا قصور ہے یا بحالت افہم ایک افترا ہے کیونکہ ہمیشہ اس عاجز کی عادت ہے کہ ترجمہ کی نیت سے نہیں بلکہ تفسیر کی نیت سے معنے کیا کرتا ہے مگر اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہی کھول کر سنایا جاتا ہے جو اصل عبارت میں ہوتا ہے۔ بیشک اس جگہ و امـامـکـم کی واؤ پہلے فقرہ کی تفسیر کے لئے ہے جس وقت آپ سے یہ بحث شروع ہوگی اسوقت آپ کو قواعد محمو کے رو سے سمجھا دیا جائیگا۔ ذرا صبر کیجئے اور میری کتاب براہین احمدیہ کو دیکھئے ہمیشہ تفسیر کی طرز پر میرا ترجمہ ہوتا ہے۔ افسوس کہ باوجو در یو یو لکھنے کے ان تراجم پر آپ نے اعتراض نہیں کیا اور کسی جگہ افترا نام نہ رکھا۔ اس کی اصل وجہ بجز ا سکے اور کوئی نہیں کہ اس وقت آپ کی آنکھیں اور تھیں اور آب اور ہیں۔ خدائے تعالیٰ آپ کی پہلی بینائی آپ کو بخشے ـ وهو علی کل شیء قدیر ۔ اور آپ کو یادر ہے کہ بیت المقدس یا دمشق میں نزول عیسی کا ذکر بھی محض تفسیر کے طور پر میں نے کیا ہے مجرد ترجمہ نہیں ہے۔ قولہ ۔ آپ نے مجھے یہ الزام دینے سے کہ میرا بخاری کی حدیثوں پر ایمان ہے افترا کے طور پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ میں کسی ایسے ملہم کو بھی مانتا ہوں کہ جو بخاری یا مسلم کی کسی حدیث کو موضوع کہیں ۔ اقول ۔ بیشک آپ نے ایسے مہم کو جو کسی صحیح حدیث کو اپنے کشف کے رو سے موضوع جانتا ہو یا موضوع کو صحیح قرار دیتا ہو۔ اپنی کتاب اشاعة السنة میں مخاطب الشیطان نہیں ٹھہرایا۔ یہ آپ کا سراسر افترا اور مشت بعد از جنگ ہے کہ اب آپ اپنی تحریر میں یہ لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک ایسا محدث شیطان کی طرف سے مخاطب ہے اور جو شخص کسی صحیح حدیث کو جو صحیحین میں سے ہو موضوع کہے نہ صرف وہ شیطان کا مخاطب بلکہ شیطان مجسم ہے آپ نے اشاعة السنة میں ان بزرگوں کا نام جنہوں نے ایسے مکاشفات یا ایسا عقیدہ اپنا بیان کیا تھا شیطان مجسم ہر گز نام نہیں رکھا بلکہ مدح کی محل اور مورد میں انکا ذکر لائے ہیں مثلاً آپ نے جو میری تائید کے لئے ابن عربی کا قول لکھا اور فتوحات میں سے یہ قتل کیا کہ بعض حدیثیں کشفی طور پر موضوع ظاہر کی جاتی ہیں سچ کہو کہ آپ کی اس وقت کیا نیت تھی کیا یہ نیت تھی کہ نعوذ باللہ ابن عربی