اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 120

۱۲۰ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ الا انه في بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ما هو و اومأ بيده الى المشرق يعنى آگاہ ہو کیا تحقیق دجال اس وقت شام کے دریا میں ہے یا یمن کے دریا میں ۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ ماھو کے لفظ میں اشارہ کیا کہ بذاتہ وہ نہ نکلے گا بلکہ اس کا مثیل نکلے گا۔ تمیم داری نصاری کی قوم میں سے تھا اور نصاری ہمیشہ ملک شام کی طرف سفر کرتے ہیں۔ سوآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم داری کے اس خیال کو رد کر دیا کہ وہ شام کے دریا میں کسی جزیرہ میں دجال کو دیکھ آیا ہے اور فرمایا کہ دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا جس میں ہندوستان داخل ہے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھو کہ معمولی تصدیق میں جو بغیر وحی کے ہو نبی سے بھی خطافی الاجتہاد ممکن ہے جیسا کہ اس خبر کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کر لی تھی کہ قیصر روم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس تصدیق کی وجہ سے عین موسم گرما میں دور دراز کا سفر بھی اختیار کیا۔ آخر وہ خبر غلط نکلی۔ اور تواریخ صحابہ میں ایسی خبروں کے اور بہت سے نمونے ہیں۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی گئیں اور آنحضرت نے ان کی فکر کی لیکن آخر وہ صحیح نہ نکلیں ۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں قیصر کے حملہ کی خبر سن کر آنجناب شدت گرما میں بلا توقف مع ایک لشکر صحابہ کے روم کی طرف تشریف لے گئے تھے ۔ اگر تمیم داری کی خبر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور فراست کے آگے کسی قدر آثار صداقت رکھتی تو آنجناب ایسے عجیب دجال کے دیکھنے کیلئے ضرور اس جزیرہ کی طرف سفر کرتے تا نہ صرف دجال بلکہ اس کی نادر الشکل جسامت بھی دیکھی جاتی جس حالت میں آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے دیکھنے کے لئے گئے تھے تو اس عجیب الخلقت دجال کے مشاہدہ کیلئے کیوں تشریف نہ لے جاتے بلکہ ضرور تھا کہ جاتے ۔ یہ مسئلہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چشم دید ہو کر بکلی تصفیہ پا جاتا۔ اور یہ بھی آپکو یا درکھنا چاہئے کہ گر جاوالے دجال کی تصدیق اس درجہ پر ہر گز ثابت نہیں ہوسکتی جیسے ابن صیاد کا دجال ہونا ! حضرت عمر و غیر ہ صحابہ کی قسموں سے ثابت ہو گیا ہے ، گر جا والے دجال کی تصدیق قسم کھا کر کس نے کی جس کی تعریف اجماع کو میں نے پیش کیا ہے جو متفرق اقوال کتب اصول فقہ کا خلاصہ ہے۔ کیا کوئی بھی حصہ اس تعریف کا ابن صیاد کے اجماع کی نسبت ثابت نہیں ہوتا ؟ بے شک ثابت ہوتا ہے اور آپ کا نقض فضول ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اخیر مدت تک اپنے قول سے رجوع ثابت نہیں اور حدیث ابوسعید سے کم سے کم یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک جماعت صحابہ کی ابن صیاد