اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 63
روحانی خزائن جلدم ۶۳ مباحثہ لدھیانہ پھر اس امکان کذب کی نظر سے روایت احادیث کیوں نا قابل اعتبار ٹھہراتے ہیں۔ آپ کے ایسے دلائل کے وا قاویل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فن حدیث کے کوچہ سے بالکل نا آشنائی ہے۔ آپ کو کتب حدیث پر اتفاقی نظر بھی نہیں پڑی۔ صحیح مسلم کا چھٹا صفحہ اگر آپ کی نظر سے گذرا ہوا ہوتا تو آپ ہرگز اس آیت سے اپنے دعوے پر استدلال نہ کرتے۔ یہ آیت تو اس امر کی دلیل ہے کہ جب راویوں یا نا قلوں کے ظاہری صدق و عدالت کا حال معلوم نہ ہو تو ان کو بلا تحقیق قبول نہ کرو۔ نہ یہ کہ جین کا صدق و عدالت تم کو ثابت ہو ان کو نقل روایت میں اس خیال سے کہ ان سے صدور کذب ممکن ہے بلا تحقیق جدید نہ مانو۔ صحیح مسلم صفحہ ۶ میں ہے واعلم وفقك الله ان الــواجـب عـلـى كـل احد عرف التميز بين صحيح الروايات وسقيمها وثقات ناقلين لها من المتهمين ان لايروى منها الا ماعرف صحة مخارجه والستارة فى ناقليه وان يتقى منها ما كان منها عن اهل التهم والمعاندين من اهل البدع والدليل على ان الذي قلنا من هذا هو اللازم دون ما خالفه قول الله تبارک و تعالى ذكره يا ايها الذين امنوا ان جاء كم فاسق بنبأ فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين وقال جل ثناء ٥ ممن ترضون من الشهداء وقال واشهدوا ذوى عدل منكم مدل بما ذكرنا من هذه الأي ان خبر الفاسق ساقط نجر مقبول و ان شهادة غير العدل مردودة والخبر وان فارق معناه معنی اشهاده في بعض الوجوه فقد يجتمعان فى اعظم معنيهما اذكان خبر الفاسق غير مقبول عند اهل العلم كما ان شهادته مردودة عند جميعهم میرے اس سوال کے جواب میں کہ قرآن مجید کو احادیث صحیحہ کا معیار صحت ٹھہرانے میں آپ کا کوئی شخص امام یا موافق ہے جو آپ نے فرمایا ہے کہ تمام مسلمان جو قرآن کو امام جانتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اس مسئلہ میں میرے موافق ہیں۔ اور خاص کر صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی میرا موافق ہے جنہوں نے آنحضرت کے اس حکم سے کہ جو کچھ مجھ سے روایت کروا سے کتاب اللہ پر عرض کرو حديث من ترك الصلوة متعمدا فقد کفر کو قرآن پر عرض کیا اور تمیں سال کے بعد اس کو آیت أَقِیمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ کے کے مطابق پایا ۔ تو اس حدیث کو قبول کیا۔ اس کے پہلے حصہ کا جواب تو سابقا گذر چکا ہے کہ مسلمانوں کا قرآن کو امام مانا اور اس پر ایمان لانا یہ نہیں چاہتا کہ وہ کوئی حدیث صحیح جب تک کہ اس کو قرآن پر عرض نہ کریں قبول نہ کریں بلکہ وہ ایمان ان کو یہ سکھلاتا ہے کہ وہ حدیث کو جب اس کی صحت بقوانین روایت ثابت ہو فوراً قبول کریں اور اس کو قرآن مجید کی مانند الروم :٣٢