اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 64
روحانی خزائن جلد۴ ۶۴ مباحثہ لدھیانہ ۲۲ واجب العمل سمجھیں صرف قرآن مجید کو کافی سمجھ کر ہی اس حدیث سے استغنا نہ کریں۔ رہا جواب دوسرے حصہ کا کہ صاحب تغییر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپکے اعتقاد کے موافق عمل کیا ہے اور حديث من ترك الصلوة متعمدا کو قبول نہ کیا جب تک کہ اس کو آیت اقیموا الصلوۃ کے مطابق و موافق نہ پایا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ کلام صاحب حسینی یا شیخ محمد اسلم طلوسی کا مطلب بیان کرنے میں آپ نے دو وجہ سے دھوکا کھایا یا دیدہ و دانستہ مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے وجہ اول یہ کہ صاحب تفسیر حسینی یا شیخ محمد اسلم طوسی نے آپ کی مانند یہ عام اصول نہیں ٹھہرایا کہ احادیث صحیح مسلم الصحت کی صحت ثابت ہو جانے کے بعد اس کی صحت کا امتحان اس اصول سے کیا جائے اور جب تک وہ حدیث مطابق قرآن نہ ہو اس کو صیح نہ سمجھنا چاہئے ان کے کلام میں اس عام اصول کا نام ونشان بھی نہیں ہے اور نہ آپ نے یہ عام اصول ان سے نقل کیا ہے انہوں نے صرف ایک حدیث من ترك الصلوة کو کتاب اللہ پر عرض کیا اور اگر اس حدیث کے سوا اور احادیث کو بھی انہوں نے اسی غرض کے ذریعہ سے صحیح قرار دیا ہے تو آپ یہ امران سے بہ نقل صحیح ثابت کریں ورنہ آپ پر یہ الزام قائم ہے کہ آپ جزئی واقع کو عام اصول بناتے ہیں اور خود دھو کہ کھاتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے ہیں اس پر اگر یہ سوال کرو کہ ان کے نزدیک یہ اصول صحیح روایات عام مقرر نہ تھا تو انہوں نے اس حدیث اس گستاخی اور شوخی کی بھی کوئی حد ہے ! اے اہل ایمان اے عاشقان کلام پاک رحمان تمہارے بدنوں پر رونگٹے نہیں کھڑے ہوتے تمہارے کلیجے دہل نہیں جاتے ! کیسا اندھیر پڑ گیا ! قرآن کریم کو نا کافی غیر مکمل اور نا قابل حکومت کہا جاتا ہے۔ وہ کتاب جس نے علانیہ دعویٰ کیا ہے کہ میں کامل مہیمن اور تمام صداقتوں اور تمام دینی ضرورتوں کی حاوی و جامع کتاب ہوں ۔ اور میں حکومت اور فیصلہ کرنے والی ہوں شرارت دیکھو اسے نا کافی کہا جاتا ہے! کوئی اس بے باک گروہ سے پوچھے کہ اگر قرآن کو کسی تکملہ۔ تتمہ ۔ ذیل۔ مستدرک اور ضمیمہ کی ضرورت تھی تو کیوں صاحب الوحی مهبط القرآن علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ان کے حکم سے قرآن کے علاوہ اور ان کے ملفوظات کی کتابت و تدوین کا شدید اور اکیدا اہتمام نہ کیا گیا کیوں بالصراحت آپ نے نہ کہہ دیا کہ قرآن (معاذ اللہ ) مجمل ونا کافی ہے۔ حدیثیں ضرور ضرور لکھ لیا کرو۔ ورنہ قرآن ادھورا ناقص اور بے معنے رہ جائے گا۔ اللہ اللہ ! قرآن کا تو وہ اہتمام ہو کہ بمجرد آیت کے نزول کے کا تب تیار بیٹھے ہوں اور ہڈیوں اور رق وغیرہ پر جھٹ پٹ لکھ لیں اور احادیث کے اہتمام کی کسی کو پرواہ نہ ہو۔ افسوس جس امر کا دعویٰ تحدی خود صاحب الحدیث نے نہیں کیا آپ لوگ اس سے بڑھ کر کیوں قدم مارتے ہیں قرآن کریم کی نسبت بے شک دعوی کیا گیا ہے وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا احادیث کی نسبت یہ تحدی اور دعویٰ کہاں کیا گیا ہے۔ فتدبر ۔ ایڈیٹر حاشیه النساء: ۸۳