اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 61

روحانی خزائن جلد ۴ บ مباحثہ لدھیانہ كتب الى رسول الله صلعم ان ورث امرأة اشبع الضبابي من دية زوجها فرجع عمر (۵۹) رواه الترمذى وابوداؤد۔ (۴) دیت جنین کی حدیث کو دو شخصوں کی روایت و شہادت سے آپ نے قبول کیا اور اس بات میں قرآن کریم کے حکم قصاص پر اکتفانہ فرمایا ۔ عن هشام عن ابيه ان عمر بن الخطاب نشد الناس من سمع النبي قضى فى السقط فقال المغيرة انا سمعته قضى فى السقط بغرة عبدا و امة قال ائت من يشهد معك على هذا فقال محمد بن مسلمة انا اشهد على النبي صلعم بمثل هذا رواه البخاری صفحه ۱۰۲۰۔ وزاد ابوداؤد فقال عمر بن الخطاب الله اكبر لولم اسمع بهذا لقضينا بغير هذا۔ ۱۵ (۵) سب ہی انگلیوں کے خون بہا کے برابر ہونے کی حدیث آپ نے قبول فرمائی باوجود یکہ آپ کی رائے اس میں یھی کہ چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی کی دیت نو اونٹ ہونا چاہئے ۔ بیچ والی اور اس کے ساتھ والی سبابہ کے بارہ اونٹ ۔ انگوٹھے کے پندرہ ' اونٹ جو بظاہر ان کی مختلف قوتوں اور مقداروں کی نظر سے انصاف و عدل معلوم ہوتی ہے جس کا قرآن میں حکم ہے مگر آپ نے حدیث سنی تو قبول فرمائی اور قرآن سے اس کے مطابق کرنے کی کچھ پرواہ نہ کی صحیح بخاری صفحہ ۱۰۱۸ میں ہے۔ عن الـنبـي صـلـعـم قال هذه وهذه يعنى الخنصر والابهام سواء اور مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت میں ہے وترک عمر رأیه في دية اصابع وكان رأيه فى الخنصر والبنصر تسعًا وفى الوسطى وفي المسبحة اثنا عشرو في الابهام خمسة عشر كل ذلك في التيسير قال الشارح وكذا ذكر غيره والذي في روايته البيهقى انه كان يرى فى المسبحة اثنا عشر و في الوسطى ثلث عشر بخبر عمر بن حزم في كل اصبع عشر من الابل ۔ اس مضمون کی اور بہت مثالیں ہیں مگر ہم آپ کی طرح تطویل پسند نہیں کرتے ۔ ان امثلہ کو دیکھ کر کس و ناکس بشر طیکہ ادنی فہم و انصاف رکھتا ہو ہرگز نہ کہے گا کہ حضرت عمر نے جو فرمایا ہے کہ ہم کو کتاب اللہ کافی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ حدیث نبوی کی ہم کو حاجت نہیں اور قرآن اس کی جگہ کافی ہے۔ اور نہ یہ مراد ہے کہ جب تک کسی حدیث کی شہادت قرآن میں نہ پائی جاوے وہ لائق قبول نہیں بلکہ اس سے مراد صرف وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ جس مسئلہ میں سنت صحیحہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کافی ہے اس قول فاروقی کے مورد کو دیکھا جائے تو اس سے بھی یہی معنے سمجھ میں آتے ہیں ۔ مگر اس کی بحث و تفصیل میں تطویل ہوتی ہے کیونکہ اس میں شیعہ سنیوں کے باہمی اختلاف کو جو اس قول کی نسبت ان میں پایا جاتا ہے ذکر کرنا پڑتا ہے جس سے بحث مقصود سے خروج لازم آتا ہے۔ امکان تضعیف و توہین حدیث صحیحین پر آپ نے ایک یہ دلیل پیش کی ہے کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔