اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 60

۶۰ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ ۵۸ کہ حضرت عمر فاروق نے اپنی تمام عمر میں اپنے سے چھوٹے رتبہ کے لوگوں کی روایات کو قبول کیا ہے اور ان روایات سے مستغنی ہو کر عمل کتاب اللہ کو کافی نہیں سمجھا اس کی تفصیل ہمارے ضمیمہ جات ۱۸۷۸ء سے بخوبی ہو چکی اس مقام میں اس کی چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں ۔ (۱) قرآن مجید سے بیٹی کی وراثت کا یہ حکم بیان ہوا ہے کہ کسی شخص کی ایک بیٹی ہو تو وہ نصف مال کی وارث ہے اس حکم قرآنی کے مفسر یا یوں کہیں کہ تخصص آنحضرت کی یہ احادیث میں گروہ انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جس کے دستاویز سے حضرت صدیق اکبر نے حضرت فاطمہ زہرا کو آنحضرت کے خالص مال سے ورثہ نہ دیا باوجود یکہ انہوں نے مطالبہ بھی کیا اور آنحضرت صلعم نے بیٹی بیٹے وغیرہ وارثوں کو اس حالت میں محروم الارث ٹھہرایا ہے جب کہ وہ اپنے مورث کو قتل کردیں یا وارث ومورث کے مذہب میں اختلاف ہو جاوے۔ حضرت عمر فاروق نے ان احادیث کو قبول فرمایا اور ان پر عمل کیا اور ان احادیث سے مستغنی ہو کر آیت میراث کے عمل پر اکتفا نہ کیا۔ (۲) قرآن مجید میں ان عورتوں کو جن کا نکاح مرد پر حرام ہے شمار کر کے فرمایا ہے أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذلكم لا یعنی ان عورتوں کے سوا جن کا حکم حرمت نکاح قرآن میں بیان ہوا ہے سب عورتیں تم پر حلال ہیں اس حکم قرآن کی تفسیر یا یوں کہیں کہ تخصیص میں آنحضرت کا یہ ارشاد ہے کہ جو رو کی خالہ اور پھوپھی جو رو کے نکاح میں ہونے کی حالت میں نکاح میں نہ لا ئی جاوے چنانچہ فرمایا ہے لا تنكح المرأة على عمتها ولا خالتها آنحضرت کے جملہ اصحاب نے جن میں حضرت عمر بھی داخل وشامل ہیں اس حدیث نبوی کو قبول فرمایا ہے اور اس کو مخالف قرآن سمجھ کر اس کے عمل سے استغنا اور عمل قرآن پر اکتفا نہیں کیا۔ فاضل قندھاری نے کتاب مغتنم الحصول میں کہا ہے ان الصحابة خصصوا واحل لكم ما وراء ذالكم ولا تنكح المرأة على عمتها ولا على خالتها ويوصيكم الله في اولادكم ولايرث القاتل ولايتوارثان اهل الملتين ونحن معشر الانبياء لا نرث ولا نورث۔ (۳) حضرت عمر فاروق نے ایک بادیہ نشین راوی کی اس حدیث کو قبول فرمایا جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلعم نے ایک عورت کو اس کے خاوند کی دیت کا وارث کیا باوجود یکہ قرآن مجید اس عورت کو دیت کا وارث نہیں بنا تا کیونکہ وہ دیت بعد موت شوہر کا مال ہوتا ہے اور عورت بعد موت شوہر اس کی عورت نہیں رہتی وبناء عليه حضرت عمر فاروق کی رائے یہ تھی کہ وہ عورت اس مال سے وراثت کی مستحق نہیں مگر جب آپ کو حدیث مذکور معلوم ہوئی تو اپنی رائے کو چھوڑ دیا اور حدیث کو قبول فرمایا۔ كان عمر بن الخطاب يقول الدية على العاقلة ولا ترث المرأة من دية زوجها شيئًا حتى قال لـه الضحاک بن سفيان ا النساء: ۲۵