اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 302
روحانی خزائن جلدم ٣٠٢ الحق مباحثہ دہلی ۱۷۲ کو واسطے تائید معنے قراءت متواترہ کے لانا باطل ثابت ہو اور اس کا جناب سے مطالبہ ہے قولہ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر اس معنے کی صحت پر معترض ہیں اقول جواب اس کا مکر رسہ کر ر گذر چکا۔ بھلا تیرہ سو برس کی تفاسیر اس قدر کثیر کا مقابلہ صرف ایک تفسیر ابن جریر ومن تبعہ یعنے ابن کثیر کیا کرے گی وللاكثر حكم الكل والنادر کالمعدوم علاوہ یہ کہ اقوال مندرجہ ابن جریر معارض ہیں نصوص قرآن مجید اور حدیث شریف کے فتسقط لا محالة قوله يحض غلط ہے الخ اقول یہ ثبوت تعارض بين المعنیین کی کیا عمدہ دلیل ارشاد ہوئی ہے سبحان اللہ مگر یہ تو ارشاد ہو کہ یہ تعارض کونسا ہے آیا صرف تعارض عرفی بمعنے متعدد کے ہے یا بمعنے تناقض منطقی کے۔ بشق اول حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں دو متعدد معنے جمع ہو سکتے ہیں مثلت مثلاً یہ معنے کہ ہر ایک اہل کتاب کو قبیل موت عیسی بن مریم کے یہ خیالات شک و شبہ صلب وقتل کے حضرت عیسی بن مریم کی نسبت چلے آتے ہیں جو اس آیت کے اوپر مذکور ہیں اور ان کو ان شبہات کے ہونے پر یقین ہے اور یہ معنے کہ ہر ایک اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے اس بیان مذکورہ بالا پر ایمان و یقین رکھتا ہے کہ مسیح بن مریم یقینی طور پر صلب وقتل کی موت سے نہیں مرا اس کے قتل یا صلب کی نسبت صرف شکوک و شبہات ہیں على هذا القیاس اور معانی جو حضرت اقدس نے ازالہ وغیرہ میں بہ سبب ذو الوجوہ ہو نے آیت کے لکھے ہیں وہ متناقض نہیں جو باہم جمع نہ ہوسکیں۔ اور بشق ثانی ان دونوں معنوں میں تناقض ثابت فرمایا جاوے ورنہ حضرت مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ الہامی معنے ان معنوں کے مغائر نہیں بہت درست اور نہایت صحیح ہے۔ پھر سخت تعارض اور بین تخالف کیسا۔ یہ کیا ضرورت ہے کہ در صورت ارجاع اس ضمیر کی طرف کتابی کے ہونے میں ہم نے ان دونوں معنی کا غیر متناقض ہونا ثابت کر دیا اور نہ جمع کیوں ہوسکتی اجتماع النقیضین تو درست ہے ہی نہیں اور حضرت مرزا صاحب یہ کب کہتے ہیں کہ ضمیر قبل موتہ کی طرف عیسی بن مریم کے رجوع نہیں ہو سکتی وہ تو یہ کہتے ہیں کہ در صورت ارجاع ضمیر کے طرف عیسی بن مریم کے وہ معنے جو آپ کرتے ہیں وہ مور دفساد ہیں اور اس وجہ سے قابل تسلیم نہیں ہیں اور آیت وَإِن من أهل الكتب كو وفات مسیح میں مرزا صاحب نے کسی جگہ یقینی صريحة الدلالت اور قطعية الدلالت نہیں لکھا ہاں وفات مسیح میں بطور اشارۃ النص کے لکھا ہے اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ آیت ذوالوجوہ کا با وجود اقرار والوجوہ ہونے کے ایک وجہ پر اصرار کر کر اس وجہ کو قطعیة الدلالت کہہ دینا اور باقی وجوہ کا بلا دلیل جحد وانکار کرنا وَ جَحَدُوا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ کا مصداق ہے یا نہیں۔ قولہ یامر مسلم ہے الخ ۔ النمل : ۱۵