اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 301
روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی قراءت کو واسطہ تائید معنے قراءت متواترہ کے لائے ہیں قولہ معنے مذکور کا فساد اس وجہ سے نہیں ہے اے ایم الح اقول جب کہ اس معنے کا فساد جو آپ کے معنے کے مخالف ہیں۔ اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ مخالف ہو قاعدہ نحو کے تو پھر اور کس وجہ سے وہ فساد ہے بیان فرمایا جاوے ہم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کے معنے قاعدہ نحو کے سراسر موافق ہیں لیکن اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ دوسرے معنے جو حسب اقرار جناب کے مخالف قاعدہ نحو کے نہیں ہیں وہ فاسد اور باطل ہوں ۔ یہ کیسا معما ارشاد فرمایا گیا ذرا سوچکر اور تامل فرما کر تو ضیح اس کی فرمائی جاوے قوله پس اس قول کا کذب كالشمس في نصف النهار ظاہر ہو گیا اقول یہ بات اپنے محل پر ثابت ہو چکی ہے کہ جب صرف اقوال رجال میں بحث آ کر پڑتی ہے تو لحاظ کثرت اقوال کا کیا جاتا ہے نہ قلت کا پس اگر تمام جہان کی تفسیروں میں سے ایک تفسیر ابن جریر جناب نے پیش فرمادی اور ابن کثیر اس کا تابع ہوا تو اس سے قطعیت معنے جناب کی کیونکر حاصل ہو گئی۔ ایک یا دو مفسرین تو ایک طرف اور تمام جہان کی تفسیریں دوسری طرف۔ اب آپ ہی انصاف سے فرماویں کہ کس کو ترجیح دی جاوے گی پھر اگر حضرت اقدس مرزا صاحب نے بموجب مثل مشہور و مقبول وللاكثر حکم الکل کے ایسا کچھ ارشاد فرمایا کہ سب کے سب آپ ہی کے معنے کو ضعیف ٹھہراتے ہیں تو اس قول کا کذب كالشمس في نصف النهار کیونکر ظاہر ہوگیا۔ بحكم النادر كالمعدوم وللاكثر حکم الکل کے یہ تو عکس القضیہ ہے اور پھر یہ سب مضمون اس صورت میں ہے کہ معنے مطلوب جناب کے نصوص کے متعارض نہ ہوتے درصورتیکہ یہ معنے متعارض نصوص بینہ کے ہیں تو پھرا بن جریر کے قول سے جس کا تابع ابن کثیر بھی ہو گیا ہے قطعیت آپ کے معنے کی اور بطلان دوسرے معنے کا کیونکر ثابت ہو سکتا ہے بینوا توجروا قوله بالجملہ مقصود رفع مخالفت ہے نہ اثبات دعوی۔ اقول بڑے تعجب کی بات ہے جب آپ کے معنے پر کوئی بڑا افساد لازم آتا ہے تب آپ دعوے ہی سے دست بردار ہو جاتے ہیں اور پھر بھی اپنے دعوے کو قطعی الثبوت فرمائے جاتے ہیں۔ جناب من اگر معنے قراءت متواترہ کے وہ کئے جاویں جو قراءت غیر متواترہ سے ثابت ہوتے ہیں تو پھر دعوے جناب پر اب کونسی دلیل باقی رہ گئی ۔ مولانا رفع مخالفت جو آپ کیا کریں ذرہ سوچ کر اور تامل فرما کر کیا کریں وہ رفع مخالفت ہی کیا ہوا جس سے دعوی بالکل نیست و نابود ہو جاوے۔ وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْ لَهَا مِنْ بَعْدِقُوَّةٍ أَنْكَانا قوله سند میں جو جرح ہے وہ الخ ا قول کوئی ایسی جرح جناب نے بیان نہیں فرمائی جس سے تمام مفسرین محققین کا اس قراءت غیر متواترہ النحل : ٩٣