اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 303
٣٠٣ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی اقول یہ ایک نزاع لفظی ہے اور مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں۔ کسی کلمہ کے تکلم کے بعد متصلہ کا زمانہ آپ (۱۷۳) کے نزدیک استقبال قریب ہے اور اہل عربیہ کے نزدیک حال ہے ۔ مطول اور ہوامش اس کے سے یہ مطلب ثابت ہو چکا اور ایسے مناقشات کرنے کی نسبت عرف اور اہل عربیہ کی طرف سے مشیان مطول وغیرہ یہ کہہ چکے کہ یہ مناقشات واہیہ ہیں قولہ فرق نہ کرنا الخ اقول فرق کرنا ایسی عرفی باتوں میں جو نہایت درجہ کی موشگافی ہے لا حاصل ولا طائل ہے جو منجملہ مناقشات واہیہ کے ہیں نہ داب محصلین جیسا کہ ماہر علم عربیہ وفنون بلاغت بلکہ قاصر پر بھی مخفی نہیں قولہ بلکہ کہا گیا ہے کہ اس کا ایفا الح اقول اس کے کیا معنے کہ مجاہدہ تو کریں زمانہ حال میں اور ہدایت حاصل ہو کسی زمانہ نامعلوم آئندہ میں۔ اے مولانا مجاہدہ کے ساتھ ہی بطور اتصال لزومی کے ہدایت الہی فوراً اور معا پہنچ جاتی ہے بلکہ مجاہدہ فی اللہ بھی خود ہدایت سے ہی ہوتا ہے۔ مجاہدہ اور ہدایت کا ایسا اتصال ہے جیسا طلوع شمس اور وجود نہار میں۔ اگر جناب کو اس میں کچھ کلام ہوگا تو انشاء اللہ تعالیٰ اس بارہ میں دلائل علمیہ کتاب وسنت سے پیش کی جاویں گی ۔ بالفعل بطور تنبیہ کے مختصر عرض کیا گیا اور بڑے تعجب کی بات ہے کہ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم کو اس سنت اللہ سے ہر گز انکار نہیں کہ مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مرتب ہوتی ہے اور پھر بلا وجہ و بغیر دلیل یہ بھی فرماتے جاتے ہیں کہ اس آیت سے یہ مطلب ثابت نہیں ہوتا مولانا اس آیت سے تو یہ مطلب بطور عبارت النص کے ثابت ہوتا ہے اگر چہ دوسری آیات سے بھی ثابت ہوا اور نون ثقیلہ کا حال تو ناظرین منصفین کو معلوم ہو چکا کہ اس نے اثبات مدعا جناب سے بالکل دست برداری کر دی ہے اور وہ آیت کے پورے معنے کو ادھورا نہیں کر سکتا۔ پھر ہمیں کیا ضرورت واقع ہوئی ہے کہ کلام ابلغ البلغاء کو پورے معنے سے عاری کر کر ادھورے معنے پر محمول کریں قولہ یہ آیات منافی قطعیۃ الدلالت الخ اقول آيت ليؤمنن به آپ کے مسلک کے بموجب عام ہے اور مفہوم ان آیات کا خاص ہے اور یہ امر گذر چکا کہ خاص مخصص عام کا ہوا کرتا ہے نہ برعکس جو عکس القضیہ ہوا جاتا ہے ومـرتـفـصـيـلـه قـوله يه حصر غير مسلم ہے الخ اقول خود آپ کا حصر ہی معنے غلام میں جو صرف بمعنے کو دک صغیر کیا گیا ہے غیر مسلم ہے قاموس وغیرہ کو ملاحظہ فرمائیے اور منتہی الا رب میں بھی لکھا ہے غلام بالضم کو دک و مردمیانہ سال از لغات اضداد است یا از هنگام ولادت تا آمد جوانی ۔ پس اندر میں صورت جو صراح وغیرہ سے نقل فرمایا گیا ہے جناب کو کچھ بھی مفید نہیں اور حضرت مرزا صاحب کو کچھ بھی مضر نہیں ہے قوله اول یہ کہ آیت وَإِنْ مِنْ أهل الكتب التى اقول - چند مرتبہ عرض ہو چکا کہ حضرت مرزا صاحب