اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 291
روحانی خزائن جلده ۲۹۱ الحق مباحثه دیلی قرآنیہ قطعی طور سے وفات مسیح پر دلالت کرتی ہیں۔ اور جو فساد اس شق پر بیان کیا گیا ہے اسکی نسبت ہم (۱۲۱) بھی مولوی صاحب سے یہاں پر صرف ایک سوال کرتے ہیں تاکہ طول لازم نہ آوے جو اس سوال کا جواب مولوی صاحب دیویں وہی جواب حضرت اقدس مرزا صاحب کی طرف سے تصور فرماویں۔ سوال یہ ہے کہ قرآئیت ہر دو سورتوں معوذتین کی قطعی طور پر آپ کے نزدیک ثابت ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی آپ اس کا اشتہار دیں کہ میرے نزدیک یعنی مولوی صاحب کے نزدیک معوذتین قطعی قرآن نہیں ہیں اور بصورت شک اول لازم آتا ہے کہ آپ کے نزدیک وہ صحابہ جنہوں نے ان ہر دو سورتوں کے قرآن ہونے کا انکار کیا تھا نعوذ باللہ کا فرہوں۔ کیونکہ منکر قرآن متواتر کا جو قطعی اور یقینی ہے کا فر ہوتا ہے فمـاهـو جـوابكم عنه فهو جوابنا قوله چهارم آپ نے جو تعریف مدعی کی بیان کی ہے الخ اقول تعریف مدعی کی حضرت مرزا صاحب نے محض اپنی رائے سے نہیں بیان کی بلکہ فقہاء اور محد ثین اور نظار جو تعریف مدعی کی ہمو جب اپنی اپنی اصطلاح کے کرتے ہیں اس کی تشریح اور توضیح بطور بہتر اور گھر کے بیان کی ہے اور قرآن مجید سے بھی مستنبط ہے و کیف لا وكـل الـعـلـم في القرآن لكن تقاصر عنه افهام الرجال اس مقام پر مولانا صاحب نے کتاب الا قضیه والشہادات کتب حدیث کو اور کتاب الدعویٰ کتب فقہ کو اور تمام آیات مخاصمه و آیت مداینه قرآن مجید کو غور و امعان سے نظر نہیں فرمایا جو ایسا کچھ فرماتے ہیں کہ یہ نہ سہی کوئی قول کسی صحابی یا تابعی یا کسی مجتہد یا کسی محدث یا فقیہ کا اسکے ثبوت کیلئے پیش کیے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اگر مولوی صاحب کا اس فرمانے سے یہ مطلب ہے کہ جس عبارت اردو میں حضرت اقدس نے تعریف مدعی کی بیان کی ہے وہ کہیں مذکور نہیں تو البتہ یہ فرمانا مولانا صاحب کا کسی قدر درست اور راست ہے فی الحقیقت یہ عبارت اردو کی جو حضرت اقدس نے تعریف مدعی میں بیان کی نہ قرآن مجید میں مذکور ہے اور نہ کسی حدیث میں اور نہ کتب فقہ عربیہ میں کہیں لکھی ہے کیونکہ وہ عربی زبان میں ہیں اور بعینہا یہ الفاظ تو شائد کسی کتاب فقہ اردو میں بھی نہ نکلیں گے۔ لیکن اس بنا پر تو جناب مولوی صاحب کا سب وعظ و پند جو اردو میں ہوا کرتا ہے وہ بھی کہیں مذکور نہیں اندرمیں صورت وہ سب وعظ و سپند محض رائے جناب کی ہوئی جاتی ہے ماھو جو ابكم فهو جو ابنا اور اگر یہ مطلب نہیں صرف مطلب سے مطلب ہے تو لیجئے زیادہ طوالت تو اس تحریر مختصر میں کیا کی جاوے صرف بحوالہ حجت اللہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب ایک حدیث کی شرح لکھے دیتا ہوں۔ قال صلعم لو يعطى الناس بدعواهم لادعى الناس دماء رجال واموالهم ولكن البينة للمدعى واليمين على المدعى عليه فالمدعى