اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 290
۲۹۰ روحانی خزائن جلد۴ الحق مباحثہ دہلی (۱۲۰) قوله اول یہ کہ آپ قبل ادعائے مسیحیت براہین احمدیہ میں اقرار حیات مسیح کا کر چکے ہیں الخ ۔ اقول۔ ادعائے مسیحیت بطور روحانی براہین احمدیہ میں بھی موجود ہے اور ازالہ اوہام وغیرہ میں بھی وہی دعوئی ہے کوئی دعوی جدید نہیں ۔ آگے رہا اقرار حیات مسیح سو وہ بطور منطوق کے براہین میں نہیں لکھا گیا۔ ہاں البتہ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا لکھا ہے جس سے حیات مسیح بطور مفہوم کے لازم آتی ہے اور یہ مسئلہ مقررہ علم اصول کا ہے کہ لازم القول یا لازم المذہب کا مذہب ہونا ضروری نہیں ۔ معہذا اس سے جناب کو کیا فائدہ ہوا کیونکہ مانا کہ حضرت مرزا صاحب کو حیات مسیح کا اقرار تھا لیکن جب کہ بسبب عدم وجدان دلیل کے حیات مسیح پر حضرت مرزا صاحب حیات مسیح سے دستبردار ہو گئے اور دعوی حیات ثابت نہ ہوا تو وفات مسیح خود بخود ثابت ہو گئی کیونکہ حیات و وفات میں کوئی واسطہ نہیں ہے مگر اس صورت میں بار ثبوت حضرت کے ذمہ کہاں رہا۔ قولہ ۔ خاکسار ایک سوال کرتا ہے الی آخرہ۔ اقول ۔ مولانا صاحب نے اس جگہ پر بہت سی شقوق بطور منطقین کے جاری فرما ئیں ۔ مگر دانست ناقص میں طول عبث کیا ہے۔ لہذا جواب اس کا مختصر لکھا جاتا ہے۔ اوّل ہم اس شق کو اختیار کرتے ہیں کہ خیال وفات مسیح بعد اس الہام کے پیدا ہوا ہوا ہے اور تسلیم کیا کہ الہام سے پہلے اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھا مگر اس جدت سے حضرت مرزا صاحب ایسے مدعی نہیں ہو سکتے جس کے ذمہ بار ثبوت ہو تقریر اس کی وہی ہے کہ حضرت نے حیات پر کوئی دلیل اور ثبوت نہ پایا تو اس دعوے یا اقرار سے دستبردار ہوئے اور جب کہ اقرار حیات سے دستبردار ہوئے تو بجز وفات کے اور کچھ نہیں ہے کیونکہ اجتماع الضدین و ارتفاع الضدين محالات سے ہے پس اس تقریر سے کسی طرح پر بار ثبوت حضرت اقدس کے ذمہ نہیں ہوا اور وفات خود بخو دثابت ہوگئی ۔ اب ہم اس شق کو بھی اختیار کرتے ہیں کہ قبل الہام سے بھی یہ خیال وفات تھا مگر اس کا یقین نہیں تھا اور بعد الہام کے یقین وفات ہو گیا اور یہ بھی تسلیم کر لیا کہ مفید یقین اس وقت میں الہام ہوا جس کی تائید نصوص نے بھی کی اور اس وجہ سے کہ اکثر لوگوں کو ملہم ہونا حضرت اقدس کا پایہ ثبوت کو نہیں پہنچا اور ان کے لئے الہام حجت بھی نہیں تھا لہذا حضرت اقدس نے سنت اللہ و آیات قرآن مجید سے اس یقین کو ثابت کر دکھایا تا کہ مخالفین اور منکرین الہام پر بھی حجت ہو جاوے اب مخالفین کو لازم ہے کہ یا تو ان نصوص و آیات کا جواب شافی دیویں ورنہ وفات مسیح کو تسلیم کریں پھر بعد تسلیم وفات مسیح کے مسیح موعود ہونے کی بحث ہو سکتی ہے قوله سوم اس مقام پر نصوص قرآنیہ قطعی طور پر الخ ۔ اقول یہاں پر بھی دو شقیں منطقین کے طور پر جاری فرمائی گئی ہیں لیکن حاصل ان کا کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا۔ ہم اس شق کو اختیار کرتے ہیں کہ نصوص