اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 292

۲۹۲ الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلدم هو الذى يدعى خلاف الظاهر ويثبت الزيادة والمدعى عليه هو مستصحب الاصل والمتمسك بـالـظـاهـر ولا عـدل مـن ان يعتبر فيمن يدعى بينة فيمن يتمسك بـالـظـاهـر و يدرأ عن نفسه اليمين اذالم تقم حجة الأخرو قد اشار النبي صلعم الى سبب مشروعية هذا الاصل حيث قال لو يعطى الناس الخ يعني كان سببا للتظالم فلا بـــدمــن حـجة انتهی ۔ ایہا الناظرین اب ملاحظہ فرماؤ کہ جو تعریف اور فلاسفی مدعی ہونے کی حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب حکیم امت نے عربی عبارت میں بیان فرمائی اس کا مطلب وہی ہے جو حضرت اقدس نے اردو میں بیان فرمایا یا کچھ اور ہے۔ بینوا توجروا قوله پنجم یہ تعریف مدعی کی الخ۔ اقول ہم پہلے ثابت کر چکے کہ رشیدیہ میں قید من حيث انه اثبات بالدليل او التنبيه اى بیان کا مجمل ہے جس کو حضرت اقدس نے شرح فرمایا ہے۔ فتذكروا ۔ اور عصام الملة والدین کی مراد بھی وہی ہے جو رشیدیہ سے ثابت ہو چکی۔ پس جو تعریف مدعی کی حضرت اقدس نے لکھی ہے بالکل مطابق ہے اس تعریف کے جو علم مناظرہ میں لکھی ہے۔ علاوہ بریں یہ کہ اس مباحثہ میں جناب والا مدعی ہو چکے ہیں۔ مع هذا اندریں صورت حضرت اقدس اس مباحثہ حیات و ممات میں مدعی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ قولہ آپ نے توضیح المرام اور ازالہ اوہام میں اس امر کا اقرار کیا ہے الخ ۔ اقول ۔ اگر حضرت اقدس نے بموجب قول ابوالدرداء کے لايـفـقـه الـرجل حتى يجعل للقرآن وجوها ضمير قبل موته كى طرف حضرت عیسی کے راجع کی ہے تو اس صورت میں آیت کی تفسیر و ہ ہوگی جو ازالة الاوهام میں لکھی ہے اُس کو ملاحظہ فرمائیے پھر آپ کا مدعا ہر طرح پر کیونکر ثابت ہو گا۔ یہ کیا ضرور ہے کہ در صورت ارجاع ضمیر مسوتہ کی طرف حضرت عیسی کے وہی معنے ہوں جو آپ کے نزدیک ہیں۔ غابة الامر یہ ہے کہ اس صورت میں جو معنے مورد اعتراض آپ کرتے ہیں وہ بھی ایک احتمال ضعیف کے طور پر ہو سکتے ہیں اندرمیں صورت آپ کے معنے قطعی کیونکر ہو جاویں گے اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال مثل مشہور و مقبول ہے۔ باقی جناب کے کل قول کا جواب شافی و کافی حضرت اقدس نے ایسا دیا ہے کہ خوبی اُس کی انصاف ناظرین منصفین پر موقوف ہے مگر اس کا کیا علاج ہے کہ نہ آپ اس کو قبول کریں اور نہ جواب شافی دیں۔ قوله - خود آیت وَإِن من أهل الكتب الخ ۔ اقول ہرگز ہرگز صریح نہیں بلکہ ذوالوجوہ ہے كما مر بيانه۔ قوله رہی یہ بات کہ بعض مفسرین نے الخ ۔ اقول یہ التباس حق کا ساتھ غیر حق کے کیا گیا ہے کیونکہ جب ضمیر قبل موتہ کی کتابی کی طرف راجع