اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 234
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۳۴ الحق مباحثہ دہلی ۱۰۴ عن ابن عباس أعنی ممیتک کے بطور عبارت النص کی ثابت ہے اور مولوی صاحب اگر تمام تو غل اپنا جو علم اصول میں ان کو ہے صرف فرماویں گے تو اس کا نتیجہ شائد اس قدر حاصل ہو کہ حیات عیسی بن مریم آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سے بطور اشارة النص کے ثابت کی جاوے لیکن یہ مسئلہ تمام کتب میں مندرج ہے کہ تُرَجَّحُ الْعِبَارَةُ عَلَى الْإِشَارَةِ وَقْتَ التَّعَارُضِ پس وفات ثابت رہی اور حیات ساقط الاعتبار ٹھہری اور مباحثہ ختم ہوا۔ طرز دوم از روئے علم اصول فقہ دوسرے طور پر آیت انی متوفیک حسب روایت صحیح بخاری کے وفات عیسی ابن مریم میں محکم ہے۔ کیونکہ تعریف محکم کی کتب اصول فقہ اور نیز حضرت نواب صاحب بہادر مرحوم و مغفور نے حصول المامول وغیرہ میں دیکھی ہے الْمُحْكَمُ مَالَهُ دَلَالَةٌ وَاضِحَةٌ اور بفرض تسلیم لفظ قبل موته حیات مسیح پر اگر دلالت بھی کرے تو یہ دلالت واضح نہیں ہے کیونکہ اس میں ضمائر وغیرہ ذوالوجوہ ہیں اور روایتاً و در ایتاً مفسرین کا ان میں بہت سا کچھ اختلاف ہے اور اسی کو متشابہ کہتے ہیں ۔ پس یہ لفظ متشابہ ہوا ۔ اسی حصول المامول میں لکھا ہے وَالْمُتَشَابِهُ مَالَهُ دَلَالَةٌ غَيْرُ وَاضِحَةُ اب ظاہر ہے کہ ہوتے محکم کے متشابہ کی طرف کیونکر رجوع ہو سکتا ہے لقوله سبحانه تعالى فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلہ کے اسی طرح پر اگر دیگر قواعد علم اصول کی طرف رجوع کیا جاوے تو مباحثہ چار پانچ سطروں میں ختم ہو سکتا ہے مگر آپ احقر کو اس تقریر سے مدعی نہ قرار دے لیویں یہ تقریر تو بطور نقض یا معارضہ کے عرض کی گئی ہے اور یہی سائل کا منصب ہے۔ طرز استدلال از روئے اصول حدیث مولوی صاحب نے اس علم کی طرف بھی توجہ نہیں فرمائی ورنہ چار پانچ سطروں میں فیصلہ ہو جاتا تقریر اس کی بطور نمونہ مجملاً یہ ہے کہ صحیحین کی حدیثوں سے جو ازالۃ الاوہام میں لکھی ہیں وفات عیسی بن مریم ثابت ہوتی ہے اور اگر بعض روایات مرسل یا ضعیف وغیرہ سے حیات مسیح بن مریم ثابت کی جاوے تو اس کو علم اصول حدیث کب تسلیم کرے گا ۔ وہ تو بآواز بلند پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ احادیث متفق علیها جملہ احادیث پر مقدم ہیں ۔ پس وقت تعارض کے احادیث متفق علیہا جملہ احادیث پر مقدم رہیں گی ۔ وهو المطلوب ۔ النساء: ۱۶۰ ۲ ال عمران: ۸