اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 234
۲۳۴ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ١٠٣) عن ابن عباس اعنی ممیتک کے بطور عبارت احص کی ثابت ہے اور مولوی صاحب اگر تمام تو غل اپنا جو علم اصول میں ان کو ہے صرف فرما دیں گے تو اس کا نتیجہ شائد اس قدر حاصل ہو کہ حیات عیسی بن مریم آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سے بطور اشارة النص کے ثابت کی جاوے لیکن یہ مسئلہ تمام کتب میں مندرج ہے کہ تُرَجُحُ الْعِبَارَةُ عَلَى الْإِشَارَةِ وَقْتَ التعارض پر وفات ثابت رہی اور حیات ساقط الاعتبار ٹھہری اور مباحث ختم ہوا۔ طرز دوم از روئے علم اصول فقہ دوسرے طور پر آیت انی متوفیک حسب روایت صحیح بخاری کے وفات عیسی ابن مریم میں محکم ہے۔ کیونکہ تعریف محکم کی کتب اصول فقہ اور نیز حضرت نواب صاحب بہادر مرحوم و مغفور نے حصول المامول وغیرہ میں دیکھی ہے الْمُحْكَمُ مَالَهُ دَلَالَةٌ وَاضِحَة اور بفرض تسلیم لفظ قبل موته حیات مسیح پر اگر دلالت بھی کرے تو یہ دلالت واضح نہیں ہے کیونکہ اس میں ضمائر وغیرہ ذوالوجوہ ہیں اور روایتو در ایتا مفسرین کا ان میں بہت سا کچھ اختلاف ہے اور اسی کو متشابہ کہتے ہیں ۔ پس یہ لفظ متشابہ ہوا۔ اسی حصول المامول میں لکھا ہے وَالْمُتَشَابِهُ مَالَهُ دَلَالَةٌ غَيْرُ وَاضِحَة اب ظاہر ہے کہ ہوتے محکم کے متشابہ کی طرف کیونکر رجوع ہوسکتا ہے لقوله سبحانهُ تَعَالَى فَأَمَّا الَّذِيْنَ فِي قُلُوْبِهِمْ زَيْةٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْو فلیم ۔ اسی طرح پر اگر دیگر قواعد علم اصول کی طرف رجوع کیا جاوے تو مباحثہ چار پانچ سطروں میں ختم ہوسکتا ہے مگر آپ احقر کو اس تقریر سے مدعی نہ قرار دے لیویں یہ تقریر تو بطور نقض یا معارضہ کے عرض کی گئی ہے اور یہی سائل کا منصب ہے۔ طرز استدلال از روئے اصول حدیث مولوی صاحب نے اس علم کی طرف بھی توجہ نہیں فرمائی ورنہ چار پانچ سطروں میں فیصلہ ہو جا تا تقریر اس کی بطور نمونہ مجملاً یہ ہے کہ صحیحین کی حدیثوں سے جوازالتہ الاوہام میں لکھی ہیں وفات عیسی بن مریم ثابت ہوتی ہے اور اگر بعض روایات مرسل یا ضعیف وغیرہ سے حیات مسیح بن مریم ثابت کی جاوے تو اس کو علم اصول حدیث کب تسلیم کرے گا۔ وہ تو بآواز بلند پکار پکار کر کہ رہا ہے کہ احادیث متفق علیہا جملہ احادیث پر مقدم ہیں۔ پس وقت تعارض کے احادیث متفق علیہا جملہ احادیث پر مقدم رہیں گی۔ وھو المطلوب۔ النساء: ۱۶۰ ال عمران: ۸