اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 233

روحانی خزائن جلد۴ ۲۳۳ الحق مباحثہ دہلی شان سے بعید تھے اور طرز استدلال کی نسبت فرمایا کہ یہ وہی طرز ہے جو مباحثہ دہلی کا تھا احقر نے (۱۰۳) اس عنایت نامہ حال کو تین نوٹ بدیں خلاصہ مضمون دے کر بجنسها واپس کر دیا۔ خلاصہ مضمون نوٹ اوّل الفاظ خلاف تہذیب کے خطوط احقر اور جناب کی تحریر میں آنا مناسب نہیں ورنہ مباحثہ نہ ہوگا۔ خلاصہ مضمون نوٹ دوم اس تحریر کا مقابلہ اصل مباحثہ سے کرا دیا جاوے۔ خلاصہ مضمون نوٹ سوم کل ادلہ حیات مسیح اس تحریر میں جمع کر دی جاویں۔ بار بار ا یک دعواے پر وقتاً فوقتاً متفرق ادلہ کا پیش کرنا کچھ ضرور نہیں ہے ہاں فریقین کو اختیار ہے کہ جب تک چاہیں نقض و جرح ادلہ میں یا تائید ان کی میں وقتا فوقتا تحریر کریں۔ اس کا جواب آج کی تاریخ تک مولوی صاحب کی طرف سے صادر نہیں ہوا لہذا بعد انتظار بسیار احقر اب اس وعدہ کا ایفا کرتا ہے جو آغاز اخلاص نامہ میں نسبت تعبیر اینکه می بینم به بیدار بیست یا رب یا بخواب ) کے کیا گیا تھا۔ تعبیر تعبیر اس کی یہ ہے کہ مولوی صاحب کو مباحثہ دہلی میں فتح اور کامیابی حاصل نہیں ہوئی جیسا کہ مشہور کر رکھا ہے بلکہ ناکامی ہوئی ہے جس کو احقر بعونہ تعالیٰ ناظرین کو ثابت کر دکھاوے گا۔ انشاء اللہ تعالی۔ ناظرین کو مباحثہ کے معائنہ سے واضح ہوا ہوگا کہ جن علوم رسمیہ کی اعانت سے علماء ظاہر ایسے مسائل میں بحث و نظر کرتے ہیں ان علوم میں سے سوائے نحو کے اور وہ بھی ادھورے طور پر مولوی صاحب نے کسی ایک علم سے بھی مدد نہیں کی مثلاً دار مدار علماء نظار کا ایک علم اصول فقہ ہے مولوی صاحب نے اس کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی ورنہ تین چار سطروں میں مباحثہ ختم تھا۔ بیچمدان بطور نمونہ کے بعض علوم رسمیہ کی اعانت سے مجملاً کچھ کچھ عرض کرتا ہے۔ اگر مولوی صاحب بھی ان علوم رسمیہ کی اعانت سے مباحثہ فرمادیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ ہیچید ان بھی تفصیل سے عرض کرے گا۔ علم اصول فقہ مولوی صاحب نے اس علم کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی ۔ اگر چہ احقر کا منصب مدعی کا نہیں ہے لیکن اس غرض سے کہ مولوی صاحب اس علم کی طرف توجہ فرما دیں کچھ عرض کرتا ہے کہ وفات عیسی بن مریم آیت انی متوفیک سے بروایت صحیح بخاری