اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 200

۲۰۰ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی 20 کے لئے قطعية الدلالۃ نہیں قرار دیا ہے کچھ اور ہی معنی لکھے ہیں۔ قولہ پھر نووی میں یہ عبارت لکھی ہے۔ اقول نودی کی عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اکثروں نے ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف راجع کی ہے اس سے آپ کے نزدیک بھی قطعية الدلالة میں فرق نہیں ہوتا ہے کیونکہ آپ کے نزدیک آیت و انی متوفیک و آیت فـلـمـا توفّيتني، قطعية الدلالة ہے وفات مسیح پر ۔ حالانکہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے وقال الاكثرون المراد بالوفاة هنا النوم انتھی ۔ اور ایسا ہی آپ کے نزدیک آیت و ان من اهل الكتاب دلیل صریح ہے وفات مسیح علیہ السلام پر اور حالانکہ وفات مسیح کا اس میں رایحہ بھی نہیں ہے نہ ہر تقدیر اس قول کے جس کو نووی نے اکثرین کا قول قرار دیا ہے اور نہ بر تقدیر قول آخر کے جو اس کا مقابل ہے اس کے بعد آپ نے عبارت مدارک اور بیضاوی و تفسیر مظہری کی نقل کی ہے اور ہر ایک کا ترجمہ کر کے اوراق کو بڑھایا ہے اور حالانکہ ان سب سے اور کسی امر جدید کا فائدہ نہیں ہے سوائے اسکے ضمیر ہو تہ میں اختلاف ہے اور او پر ثابت ہوا کہ مجرد اختلاف معانی قطعیت و دلالت صریحہ کے مخالف نہیں ہے ورنہ چاہئے کہ آپ سے ادلہ وفات آیت انی متوفیک اور آیت فلما تو فیتنی اور آیت و ان من اهل الكتاب ادلہ قطعیہ اور دلیل صریح نہ ہوں و هو خلاف ما ادعيتم اوراق اور تفسیر مظہری والے کا یہ قول و کیف يصح هذا التاويل ما ان كلمة ان من اهل الكتاب شامل للموجودين في زمن النبي صلى الله عليه وسلم - البته سواء كان هذا الحكم خاصًا بهم اولا فان حقيقة الكلام للحال ولاوجه لان يراد به فريق من اهل الكتاب يوجدون حين نزول عیسی علیه السلام مخدوش ہے اور مخالف ہے عامہ تفاسیر کے کیونکہ کلام کا حال کیلئے حقیقت ہونا اس تقدیر پر ہے کہ کوئی صارف نہ پایا جاوے اور یہاں نون تاکید صارف موجود ہے اور یہی وجہ ہے اس امر کی اہل کتاب سے ایک فریق خاص مراد لیا جاوے پس صاحب تفسیر مظہری کا یہ قول لا وجہ کوئی وجہ نہیں رکھتا اور یہ جو تفسیر مظہری میں ہے اخرج ابن المنذر عن ابى هاشم و عروة قال فى مصحف ابی بن کعب وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موتهم مخدوش ہے کہ تفسیر مظہری میں اس قراءت کی پوری سند مذکور نہیں ابن کثیر نے اس قراءت کو اس طرح پر روایت کیا ہے حــدثـنـي اسحاق بن ابراهيم ابن حبيب الشهيد حدثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال هى في قراء ت ابي قبل موتهم اس میں دو راوی مجروح ہیں اول خصیف دوم عتاب ابن بشیر ۔ خصیف کے ترجمہ میں تقریب میں لکھا