اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 199

روحانی خزائن جلد۴ ۱۹۹ الحق مباحثہ دہلی ہیں۔ اقول سبحنك هذَا بُهْتَان عَظِيم قوله اور اس خیال خام کی نحوست سے آپ کو ﴿۲۹ تمام اکابر کی نسبت بدظنی کرنی پڑی۔ اقول ۔ آپ ان اکابر کا مطلب نہیں سمجھے ہیں فافهم - قوله ابھی میں انشاء اللہ تعالی یہ آپ پر ثابت کر دوں گا کہ آیت لیؤمنن بہ آپ کے معنوں پر اس صورت میں قطعی الدلالہ ٹھہر سکتی ہے جب ان سب بزرگوں کے قطعی الجہالت ہونے پر فتویٰ لکھا جاوے اور نعوذ باللہ ہی معصوم کو بھی اس میں داخل کر دیا جاوے۔ اقول توضیح المرام سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ " تصریح وفات مسیح پر دلالت کرتی ہے صفحہ ۸ میں مرقوم ہے اور قرآن شریف میں اگر چہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بتفریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کے وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے حاشیہ میں وہ تین آستیں آپ نے لکھی ہیں ان میں سے آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ بھی ہے ازالته الا وہام کے صفحہ ۳۸۵ میں ہے۔ غرض قرآن شریف میں تین جگہ مسیح کا فوت ہو جانا بیان کیا گیا ہے۔ ازالتہ الا و ہام صفحہ ۳۰۶ میں ہے ۔ چوتھی آیت جو سیح کی موت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے کہ " وَاِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه ، انتھی ۔ جانا چاہئے کہ آپ کی یہ تقریر با دنی تغیر آپ پر منعکس ہو جاتی ہے۔ تقریر اس کی یہ ہے کہ آیت لیڈ مین کی وفات مسیح پر اس وقت صريحة الدلالة ٹھہر سکتی ہے کہ ان سب بزرگوں کی جہالت پر فتویٰ لکھا جاوے نعوذ باللہ نبی معصوم کو بھی ان میں داخل کیا جاوے۔ ورنہ آپ کبھی اور کسی صورت میں دلالت کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ قولہ اب میں آپ پر واضح کرتا ہوں کہ کیا اکا بر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسی کے نزول کیلئے قطعی الدلالہ قرار دیا ہے یا کچھ اور بھی معنے لکھے ہیں۔ اقول یہ طعن بادنی تغیر آپ پر بھی وارد ہوتے ہیں بلکہ جو آپ نے طعن کی ہے اس سے اشد ہے یعنے آپ نے فرمایا ہے کہ آیت وَانْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ موت مسیح پر دلالت کرتی ہے اور آپ کی بعض عبارات سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہ دلالت صریحی ہے۔ پس کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسی کی وفات پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ ایک نے بھی نہیں۔ قوله کشاف صفحہ ۱۹۹ میں لیومنن به کی آیت کے نیچے یہ تفسیر ہے آہ۔ اقول اس عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ مفسرین نے قطعية الدلالۃ ہونے کی تصریح نہیں کی اسکے معنے لکھے ہیں لیکن مفسرین کا قطعية الدلالة تصریح نہ کرنا قطعیت کو باطل نہیں کرتا ہے آپ کے نزدیک انی متوفیک اور فـلـمـا توفیتنی قطعية الدلالة ہے موت حضرت عیسی علیہ السلام پر حالانکہ مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسی کی موت النور: ۱۷ النساء: ۱۶۰ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ۶۰۳ “ ہونا چاہیے۔(ناشر)