اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 201

۲۰۱ الحق مباحثه دیلی روحانی خزائن جلدم ہے صدوق سيىء الـحـفـظ خلط بآخره رمی بالارجاء ۔ میزان میں ہے ضعفه احمد وقال ابوحاتم تكلم في سوء حفظه وقال احمد ايضاتكلم في الارجاء وقال عثمان بن عبدالرحمن رأيت على خصيف ثيابا سودا كان على بيت المال انتهى ملخصا ۔ عتاب کے ترجمہ میں میزان میں مرقوم ہے قال احمد أتى عن خصيف بمناكير اراها من قبل خصيف قال النسائى ليس بذاک فی الحدیث وقال ابن المديني كان اصحابنا يضعفونه وقال على ضربنا على حديثه انتهى ملخصا ۔قولہ اور بلاشبہ قراءت شاذه حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے۔ اقول عموما یہ بات غلط ہے۔ ہاں قراءت شاذو جو بسند صحیح متصل که شد و ز و دیگر عمل خفیہ غامضہ قادحہ سے خالی ہو البتہ حکم حدیث صحیح کا رکھتی ہے اور ابھی واضح ہوا کہ اس کی سند میں دور جال مجروح ہیں ۔ قولہ اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ اگر ابن عباس اور علی ابن طلحہ اور عکرمہ وغیرہ صحابہ ان معانوں کی سمجھ میں خطا پر تھے اور قراءت ابی ابن کعب بھی یعنے قبل موتھم کامل درجہ پر ثابت نہیں ۔ تو کیا آپ کے دعوی قطعیۃ الدلالت ہونے آیت ليؤمنن بہ پر اس کا کچھ بھی اثر ٹھہرا کیا وہ دعوی جس کے مخالف صحابہ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں باتفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں اب تك قطعية الدلالة ہے۔ اقول نہ صحابہ کا اتفاق خلاف پر ہے اور نہ تمام تفسیروں کا ہاں دو قول مرجع ضمیر قبل موتہ میں البتہ منقول ہیں اس سے قطعية الدلالة اور صریح الدلالة ہونے میں فرق نہیں آتا ہے اس کے نظائر کتاب وسنت میں بکثرت موجود ہیں مــــن شـــاء فــلـيــرجــع اليهما علاوہ اس کے اس بنا پر آپ کے ادلہ وفات میں سے آیت انی متوفیک آیت فـلـمـا توفیتنی و آیت وان من اهل الكتاب بھی نه قطعية الدلالت ٹھہرتی ہے نہ صريحة الدلالة کیونکہ ان آیات میں چند اقوال منقول ہیں فـمـاهـو جـوابكم فهو جوابنا - قوله مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین سے کسی گروہ نے آپ کے معنے قبول نہیں کئے ہیں۔ اقول یہ کذب صریح ہے تحریر اول میں عبارت ابن کثیر نقل کی گئی ہے اس سے ابن عباس و ابو مالک وحسن بصری وقتاده وعبدالرحمان بن زید بن اسلم وغیر واحد کا اس معنی کو قبول کرنا ثابت ہے اور ابو ہریرہ کا اس معنے کو قبول کرنا صحیحین میں مصرح ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ معنے بدلیل قاطع ثابت ہیں اور بھی ابن کثیر میں ہے واولى هذه الاقوال بالصحة القول الاول وهوانه لايبقى احد من اهل الكتاب بعد نزول عیسی علیه السلام الا آمن به قبل موتهای قبل موت عیسی علیه السلام ولاشک اے