اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 188

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۸۸ الحق مباحثہ دہلی ۵۸ لكن كونه مستفادًا من هذه الآية و تأويل الآية بارجاع الضمير الثاني الى عيسى ممنوع انما هو زعم من ابى هريرة ليس ذلك في شيء من الاحاديث المرفوعة و كيف يصح هذا التاويل مع ان كلمة ان من اهل الكتاب شامل للموجودين في زمن النبي صلى الله عليه و سلم البتة سواء كان هذا الحكم خاصا بهم اولا فان حقيقة الكلام للحال ولا وجه لان يراد به فريق من اهل الكتاب يوجدون حين نزول عيسى عليه السلام فالتأويل الصحيح هو الاول و يؤيده قراءة أبي بن كعب اخرج ابن المنذر عن ابى هاشم و عروة قالا في مصحف ابي بن كعب وان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موتهم ترجمہ۔ عکرمہ سے روایت ہے آیت ليؤمنن بہ میں ۔ بہ کی ضمیر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی طرف راجع ہے اور مال واحد ہے کیونکہ ایمان باللہ معتبر نہیں جب تک تمام رسولوں پر ایمان نہ لایا جائے اور محمد مصطفی صلعم مصطفی صلعم پر ایمان لانا عیسی پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔ اور قبل موتہ کی یہ تفسیر ہے کہ ہر ایک کتابی اپنی موت سے پہلے عذاب کے فرشتوں کے دیکھنے کے بعد رسول اللہ صلعم پر ایمان لائے گا جب کہ اس کو ایمان کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ یہ علی بن طلحہ کی روایت ابن عباس سے ہے رضی اللہ عنہما۔ علی بن طلحہ کہتا ہے کہ ابن عباس کو کہا گیا کہ اگر کوئی چھت پر سے گر پڑے تو پھر وہ کیونکر ایمان لائے گا ۔ ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ ہوا میں اس اقرار کو ادا کرے گا پھر پوچھا گیا کہ اگر کسی کی گردن ماری جاوے تو وہ کیونکر ایمان لاوے گا تو ابن عباس نے کہا کہ اس وقت بھی اس کی زبان میں اقرار کے الفاظ جاری ہو جائیں گے ۔ حاصل کلام یہ کہ کتابی نہیں مرے گا جب تک اللہ جل شانہ اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسی پر ایمان نہ لاوے بعض کہتے ہیں کہ کتابی فی حین من الاحيان ایمان لائے گا اگر چہ عذاب کے معائنہ کے وقت ہو اور بعض کہتے ہیں کہ دونوں ضمیریں عیسی کی طرف پھرتی ہیں ۔ اور یہ معنے لیتے ہیں کہ جب عیسی نازل ہوگا تو تمام اہل ملل اس پر ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر باقی نہیں رہے گا اور یہ تاویل ابو ہریرہ سے مروی ہے لیکن آیت لیو منن به سے یہ معنے جو ابو ہریرہ نے خیال کئے ہیں ہرگز نہیں نکلتے اور قبل موتہ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف کسی طرح پھر نہیں سکتی یہ صرف ابو ہریرہ کا گمان ہے ۔ احادیث مرفوعہ میں اس کا کوئی اصل صحیح نہیں پایا جاتا اور کیونکر یہ تاویل صحیح ہو سکتی ہے باوجود یکہ کلمہ ان موجودین کو بھی تو شامل ہے یعنی ان