اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 189

روحانی خزائن جلدم ۱۸۹ الحق مباحثہ دہلی اہل کتاب کو جو آنحضرت صلعم کے زمانہ میں موجود تھے۔ خواہ یہ کلمہ انہیں سے خاص ہو یا خاص نہ ہو ۵۹ لیکن حقیقت کلام کا مصداق ٹھہرانے کیلئے حال سب زمانوں سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور کوئی وجہ اس بات کی نہیں پائی جاتی کہ کیوں وہی اہل کتاب خاص کئے جائیں جو حضرت عیسی کے نزول کے وقت موجود ہوں گے پھر صحیح تاویل وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں یعنی ضمیر سے کی عیسی کی طرف نہیں پھرتی بلکہ کتابی کی طرف پھرتی ہے اور اسی کے قراءت ابی بن کعب مؤید ہے جس کو ابن المنذر نے ابی ہاشم سے لیا ہے اور نیز عُروہ سے بھی۔ اور وہ قراءت یہ ہے ۔ وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موتهم ۔ یعنی اہل کتاب اپنی موت سے پہلے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسی پر ایمان لاویں گے۔ اس کے قریب قریب ابن کثیر اور تفسیر کبیر اور فتح البیان و معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر میں لکھا ہے۔ اب دیکھئے کہ حضرت عکرمہ اور حضرت ابن عباس اور علی بن طلحہ رضی اللہ عنہم یہی تأویل لیؤمنن بہ کی کرتے ہیں کہ پہلی ضمیر محمد مصطفی صلحم اور عیسی کی طرف پھرتی ہے اور دوسری ضمیر قبل مو ته اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور قراءت قبل موتهم کس قدر وثوق سے ثابت ہوتی ہے پھر باوجود یکہ یہ تاویل صحابہ کرام کی طرف سے ہے اور بلاشبہ قراءت شاذہ حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے مگر آپ اس کو نظر انداز کر کے اور نحوی قواعد کو اپنے زعم میں اس کے مخالف سمجھ کر تمام بزرگ اورا کا بر قوم اور صحابہ کرام کی صریح ہجو اور توہین کر رہے ہیں گویا آپ کے نحوی قواعد کی صحابہ کو بھی خبر نہیں تھی اور ابن عباس جیسا صحابی جس کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فہم قرآن کی دعا بھی ہے وہ بھی آپ کے ان عجیب معنوں سے بے خبر رہا۔ آپ پر قراءت قبل موتھم کا بھی وثوق کھل گیا ہے اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ ابن عباس اور علی بن طلحہ اور عکرمہ وغیرہ صحابہ ان معنوں کے سمجھنے میں خطا پر تھے اور قراءت اُبی بن کعب بھی یعنی قبل موتهم کامل درجہ پر ثابت نہیں تو کیا آپ کے دعوئی قطعية الدلالت ہو نے آیت لیؤمنن بہ پر اس کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ کیا وہ دعوے جس کے مخالف صحابہ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیر میں با تفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں اب تک قطعیۃ الدلالت ہے۔ یـا أخــى اتق الله۔ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيكَ كَانَ عَنْهُ مسْئُولًا لے اور جب ان روایتوں کے ساتھ وہ روایتیں بھی ملا دیں جن میں انی متوفیک کے معنے ممیتک لکھے ہیں جیسے ابن عباس کی روایت اور وہب اور محمد بن اسحاق کی روایت کے کوئی ان میں سے عام طور پر حضرت مسیح کی موت کا قائل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ تین گھنٹہ تک مر گئے تھے ا بنی اسرائیل : ۳۷