اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 187
روحانی خزائن جلدم۔ I^2 الحق مباحثہ دہلی لوگ بلکہ نہایت کثرت سے لوگ اسی طرف گئے ہیں کہ آیت إلا ليؤمنن بہ میں موتہ کی ضمیر (۵۷ اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور اسی کی مؤید قراءت قبل موتھم ہے۔ پھر تفسیر مدارک میں اسی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے والمعنى ما من اليهود والنصارى احد الا ليؤمنن قبل موته بعيسى وبانه عبدالله و رسوله وروى ان الضمير في به يرجع الى الله اوالی محمد صلى الله عليه و سلم والضمير الثانی الی الکتابی یعنی اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جو اپنی موت سے پہلے عیسی پر ایمان نہ لاوے اور اس کی رسالت اور عبدیت کو قبول نہ کرے اور یہ بھی روایت ہے کہ ضمیر بہ کی اللہ کی طرف پھرتی ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرتی ہے۔ ایسا ہی بیضاوی میں زیر آیت لیؤمن بمیر تفسیر کی ہے۔ والـمـعـنـى مـا من اليهود و النصارى احد الا ليؤمنن بان عيسى عبد الله و رسوله قبل ان يموت ۔۔۔۔ ويؤيد ذالك انه قرى الا ليؤمنن به قبل موتهم ۔۔۔۔۔۔۔ وقيل الضميران لعيسى یعنی اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ایسا کوئی نہیں جو اپنی موت سے پہلے ٹیسٹی پر ایمان نہ لاوے اور قبل موتھم کی قراءت انہیں معنوں کی مؤید ہے اور قوت ایک قول ضعیف یہ بھی ہے کہ دونوں ضمیریں عیسی کی طرف پھرتی ہیں۔ اور تفسیر مظہری کے صفحہ ۷۳۱ اور ۷۳۲ میں زیر آیت موصوفہ یعنی لیو منن بہ کے لکھا ہے۔ روی عن عكرمة ان الضمير في به يرجع الى محمد صلى الله عليه وسلم وقيل راجعة الى الله عزّوجل والمآل واحد فان الايمان بالله لا يعتد مالم يؤمن بجميع : رسله والايمان بمحمد صلى الله عليه و سلم يستلزم الايمان بعیسی علیه السلام ۔ قبل موتهای قبل موت ذالك الاحد من اهل الكتب عند معائنة ملائكة العذاب عند الموت حين لا ينفعه ايمانه - هذا رواية على بن طلحة عن ابن عباس رضى الله عنهما قال فقيل لابن عباس أَرَأَيْتَ ان خرمن فوق بيت قال يتكلم (به) في الهواء فقيل أرَأَيْتَ ان ضرب عنقه قال تلجلج لسانه والحاصل انه لايموت كتابي حتى يومن بالله عزّوجل وحده لا شريك له وان محمدا صلى الله عليه و سلم عبده و رسوله وان عیسی عبدالله و رسوله قيل يومن الكتابي في حين من الاحيان ولو عند معاينة العذاب ۔۔۔۔ وقال الضميران لعيسى والمعنى انه اذا نزل ۔۔۔ امن به اهل الملل اجمعون ولا يبقى احد الا ليومنن به وهذا التاويل مروى عن ابي هريرة