آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 668
صفحہ ۲۷۔جب سے مجھے رسول پاک کا نور دکھایا گیا تب سے اس کا عشق میرے دل میں یوں جوش مارتا ہے جیسے آبشار میں سے پانی۔میرے دل سے اُس کے عشق کی آگ بجلی کی طرح نکلتی ہے اے خام طبع رفیقو میرے آس پاس سے ہٹ جاؤ۔میرا دل وجد میں ہے جب سے آنحضورؐ کو خواب میں دیکھا ہے اُس چہرے اور سر پر میری جان، سر اور منہ قربان ہوں۔اُس چاہِ ذقن میں مَیں لاکھوں یوسف دیکھتا ہوں اور اُس کے دم سے بے شمار مسیح ناصری پیدا ہوئے۔وہ ہفت کشور کا شہنشاہ اور مشرق ومغرب کا آفتاب ہے دین ودنیا کا بادشاہ اور ہر خاکسار کی پناہ ہے۔کامیاب ہو گیا وہ دل جو صدق ووفا کے ساتھ اس کی راہ پر چلا، خوش قسمت ہے وہ سر جو اس شہسوار سے تعلق رکھتا ہے۔اے نبی اللہ! کفر اور شرک سے دنیا اندھیرا ہو گئی، اب وقت آگیا ہے کہ تو اپنا سورج کی مانند چہرہ ظاہر کرے۔اے میرے دلبر میں انوار الٰہی تیری ذات میں دیکھتا ہوں اور ہر عقلمند دل کو تیرے عشق میں سرشار پاتا ہوں۔صاحب دل تیری قدر پہچانتے ہیں اور عارف تیرا حال جانتے ہیں لیکن چمگادڑوں کی آنکھ سے دوپہر کا سورج چھپا ہوا ہے۔ہر شخص دنیا میں کوئی نہ کوئی محبوب رکھتا ہے مگر میں تو تیرا فدائی ہوں اے پھول سے رخساروں والے محبوب۔سارا جہان چھوڑ کر میں نے تیرے حسین چہرہ سے دل لگایا ہے اور اپنے وجود پر تیرے وجود کو ترجیح دی ہے۔زندگی کیا ہے؟ یہی کہ تیری راہ میں جان کو قربان کر دینا، آزادی کیا ہے؟ یہی کہ تیری قید میں شکار بن کر رہنا۔جب تک میرا وجود باقی ہے تیرا عشق میرے دل میں رہے گا، جب تک میرے دل میں خون دورہ کرتا ہے تب تک اس کا دارومدار تجھ پر ہے۔یا رسول اللہ !میں تجھ سے مضبوط تعلق رکھتا ہوں اور اس دن سے کہ میں شیر خوار تھامجھے تجھ سے محبت ہے صفحہ ۲۸۔جو قدم بھی میں نے خدائے بے ہمتا کی راہ میں مارا میں نے پوشیدہ طور پر ہر جگہ تجھے اپنا معین، حامی اور