آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 669 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 669

مددگار دیکھا۔دونوں جہانوں میں مَیں تجھ سے بے انتہا تعلق رکھتا ہوں تو نے خود بچے کی طرح اپنی گود میں میری پرورش فرمائی۔وہ وقت یاد کر کہ جب تو نے کشف میں مجھے اپنی صورت دکھائی تھی اور ایک اور موقع بھی یاد کر جب تو میرے پاس مشتاقانہ تشریف لایا تھا۔ان مہربانیوں اور رحمتوں کو یاد کر جو تو نے مجھ پر کیں اور ان بشارتوں کو بھی جو خدا کی طرف سے تو مجھے دیتا تھا۔وہ وقت یاد کر جب بیداری میں تو نے مجھے دکھایا تھا۔اپنا وہ جمال، وہ چہرہ اور وہ صورت جس پر موسم بہار بھی رشک کرتا ہے۔جو کچھ ہم کو ان دو موذی شیخوں سے تکلیف پہنچی، اے رسول اللہ ! اس کا حال اس قادر اور علیم خدا سے پوچھ لے۔ہمارے حال اور ان دو بدزبان شیخوں کی شوخی کو خدائے علیم و ُبردبار پورے طور پر جانتا ہے۔انہوں نے میرا نام دجال۔گمراہ اور کافر رکھ چھوڑا ہے اور ان کے خیال میں میرے جیسا اور کوئی ناپاک، بد اور ذلیل نہیں۔مجھ مظلوم اور غمگین کے لئے کسی کا دل نہ جلا۔سوائے تیرے جس نے خوابوں میں مجھ پر بار بار شفقت دکھائی۔ہاں اس خدائے کریم نے جو میرا معشوق ومحبوب ہے ایک ہمدرد کی طرح ہمیشہ مجھے تسلی دی اور دیتا رہتا ہے۔سینکڑوں تکالیف پر اُسی کی مہربانی کی وجہ سے ہم نے صبر کیا کیونکہ ُسرمہ آنکھ کے قابل نہیں ہوتا جب تک غبار کی طرح باریک نہ ہو جائے۔اے وہ شخص جو بخل اور دشمنی کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے۔تجھے منصف اور قادر خدا سے شرم آنی چاہیے۔اپنی زبان سے کسی کو کافر کہہ دینا آسان ہے مگر اس وقت مشکل پڑے گی جب خدائے کردگار پوچھے گا۔اے بھائی تو کلمہ گوؤں کا نام کافر کیوں رکھتا ہے اگر تو خوف خدا رکھتا ہے تو خود اپنے کفر کو جڑ سے نکال صفحہ ۲۹۔تو بوڑھا ہو گیا مگر ابھی تک بوڑھوں والے اخلاق کو نہیں جانتا، خدا تجھے بوڑھوں کی طرح سوز اور صبر عنایت کرے۔اگر تو نے اپنی قوم ہی کی تکفیر کی تو کیا کام کیا؟ اگر تو جو انمرد ہے تو جا اور کسی یہودی کو اسلام میں داخل کر۔جب قیامت کی صبح کی ہوا حقیقت پر سے پردہ اٹھاوے گی تو صاف ظاہر ہو جائے گا کہ کون کافر ہے اور کون مومن